نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:قرآنی تعلیمات کےساتھ اسکولوں میں درودپاک پڑھنابھی لازمی قرار
  • بریکنگ :- لاہور:محکمہ اسکول ایجوکیشن کاڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیزکومراسلہ
  • بریکنگ :- لاہور:اسکول اسمبلی میں ترانےسےپہلےدرودپڑھنالازمی ہوگا،مراسلہ
  • بریکنگ :- لاہور:درودپاک کیساتھ آیت بھی پڑھنی ہوگی،محکمہ اسکول ایجوکیشن
  • بریکنگ :- اسکول اسمبلی میں ملک وقوم کی سلامتی کیلئےدعابھی لازمی قرار،مراسلہ
  • بریکنگ :- لاہور:اسکول سربراہان کوخصوصی ہدایات جاری،مراسلہ
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

بھوسے میں سُوئی

زمانے کی روش ہی کچھ ایسی ہے کہ ہر وہ چیز زیادہ سے زیادہ مقبولیت سے ہم کنار ہوتی جارہی ہے جو زیادہ سے زیادہ خرابی کی حامل ہو اور دوسرا بہت کچھ خراب کرنے پر کمر بستہ بھی ہو۔ غیر متعلقہ امور ہماری زندگی کا ''اٹوٹ انگ‘‘ ہوتے جارہے ہیں۔ بعض لوگوں کے معاملے میں تو یہ منزل آ بھی چکی ہے‘ وہ کتنی ہی کوشش کریں، غیر متعلقہ اور لاحاصل نوعیت کے معاملات سے دامن نہیں چھڑا پاتے۔ معاملہ یہاں تک ہو تو بھی انتہائی افسوس ناک ہے مگر ستم بالائے ستم یہ کہ ایسے لوگ اپنے فکر و عمل کی کجی کو دوسروں تک منتقل کرنے کے فراق میں بھی مبتلا رہتے ہیں۔
ہر شعبے کی غیر معمولی بلکہ عقل کو عاجز کردینے والی ترقی نے خرابیوں کی گہرائی و گیرائی بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ عام آدمی کے لیے تو یہ ایسا معاملہ رہا ہے کہ بس دم بخود ہوکر دیکھتے رہیے۔ معاملات ہاتھ سے یوں نکلے جارہے ہیں کہ اپنی بے بسی دیکھ کر کڑھنے کے سوا آپشن نہیں بچا۔ سوچا جاسکتا ہے کہ ایسا تو ہر دور میں ہوا ہے۔ جب بھی فطری علوم و فنون کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، لوگ یونہی مجبور اور تماشائی سے دکھائی دیے ہیں۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ ہر دور کا انسان مادّی معاملات میں پیش رفت کے ہاتھوں ابتدا میں پریشان اور بعد میں اُس سے تمتع کے معاملے میں عاجر دکھائی دیا ہے مگر آج معاملہ بہت مختلف اور جان لیوا حد تک پیچیدہ و خطرناک ہے۔ کم و بیش ڈیڑھ صدی پہلے تک‘ مادّی ترقی کبھی ایسی نہیں رہی کہ انسان کے ہوش اُڑادے، سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کرکے رکھ دے۔ انسان کا ظاہر و باطن اِتنی تیزی سے تبدیل نہیں ہوتا تھا کہ کچھ سمجھ ہی میں نہ آئے اور کچھ سوچنا ممکن ہی نہ رہے۔ ہر دور میں لوگ عقل سے کام لیتے ہوئے ایسی زندگی بسر کرتے تھے جس میں تمام ضروری معاملات کے لیے پوری گنجائش رہا کرتی تھی۔ غیر متعلقہ معاملاتِ زندگی میں اوّل تو داخل نہیں ہو پاتے تھے اور کسی طور داخل ہو بھی جاتے تھے تو اُن سے جان چھڑانے میں خاصی تندہی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا جس کے نتیجے میں زندگی کا عمومی مزاج بگڑنے نہیں پاتا تھا اور تمام ضروری معاملات قابو میں رہتے تھے۔ آج کے انسان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اُن میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بہت سی پیچیدگیاں نمایاں ہیں۔ بہت کچھ ہے جو کسی بھی درجے میں ضروری نہ ہونے کے باوجود معاملات و معمولات کا حصہ بن کر زندگی کے پورے ڈھانچے کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ یہ ایسا بحران ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے محض پیدا نہیں ہوا بلکہ پروان بھی چڑھا ہے مگر ہم ہیں کہ خاطر خواہ حد تک سنجیدہ تو خیر کیا ہوں گے، اب تک پوری طرح متوجہ بھی نہیں ہو پائے۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت کچھ غیر ضروری طور پر اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ زندگی کسی بھی درجے میں کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے یونہی چھوڑ دیا جائے، معاملات کو محض ہونے دیا جائے۔ ہم کسی بھی مرحلے میں زندگی کو باقی تمام معاملات سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ اِکائی ہے، اِکائی۔ اور وہ بھی اِس شرط کے ساتھ کہ کسی بھی مرحلے میں، کسی بھی درجے میں شعور سے بے بہرہ نہیں رہنا۔ زندگی مکمل طور پر شعوری معاملہ ہے جس کے لیے سنجیدگی بنیادی شرط ہے ؎ 
یہ مکمل کتاب ہے صاحب ؍ زندگی صرف اقتباس نہیں
آج کا انسان بڑا ہی خوش نصیب ہے کہ مادّی ترقی کی ایسی نہج دیکھ رہا ہے جو کبھی محض خواب و خیال کا حصہ تھی۔ زندگی کو آسان بنانے سے متعلق جو خواب ہزاروں سال تک محض جادو کے تصور سے وابستہ رہے وہ آج حقیقت کا روپ دھار کر ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ اُڑنے والے قالین کبھی ہوا بھی کرتے تھے یا نہیں۔ اور اگر ہم فرض کرلیں کہ اُڑنے والے قالین ہوا کرتے تھے تب بھی یہ بات تو تسلیم کرنا ہی پڑے گی کہ اُڑنے کی سہولت سب کو نہیں مل پاتی تھی۔ آج معاملہ یہ ہے کہ ٹکٹ خرید کر کوئی بھی طیارے کے ذریعے پوری دنیا میں کہیں بھی جاسکتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ بھوسے میں سُوئی کیسے تلاش کی جائے۔ جی ہاں! غیر متعلقہ معاملات کی بھرمار نے ہمارے لیے انتہائی اہم قرار پانے والے تمام معاملات کو ایک طرف ہٹادیا ہے۔ حواس پر ہر طرف سے حملے جاری ہیں۔ فکری ساخت کو متاثر کرنے کی کوششیں تواتر سے کی جارہی ہیں تاکہ کسی بھی معاملے میں ہمیں راہِ راست سے ہٹانا زیادہ دشوار نہ رہے۔ عام آدمی کے ذہن کو ایسے بہت سے معاملات کا عادی بنایا جارہا ہے جن کا اُس کی فکری ساخت اور مجموعی طرزِ حیات سے کچھ خاص تعلق نہیں۔ اجمالی طور پر قصہ یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر زندگی کے بنیادی تقاضوں کو نظر انداز کرکے، اپنی ترجیحات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خالص غیر متعلق افکار و اعمال کے دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ زندگی بہت کچھ مانگ رہی ہے۔ ہر معاملہ رنگ اور ڈھنگ بدل رہا ہے۔ اجتماعی سطح کی یہ تبدیلی ہم سے جامع سنجیدگی اور کامل انہماک کی طالب ہے۔ اس مرحلے سے گزرنا ناگزیر نوعیت کا حامل ہے کیونکہ عدمِ توجہ اور بے شعوری کی گنجائش نہیں۔ زندگی کا جو معاملہ ہمیں جو کچھ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے وہ کیے بغیر چارہ نہیں۔ معاملہ خالص نجی زندگی کا ہو یا کیریئر کے معاملات کا، بات دوستی کی ہو یا پروفیشنل تعلقات کی، ایسے تمام معاملات سے کنارہ کشی لازم ہوچکی ہے جو ہمیں اِدھر اُدھر لے جانے پر بضد ہوں۔ ماحول میں ایسا بہت کچھ ہے جو ہمارے وقت اور صلاحیتوں کے لیے آزمائش سے کم نہیں۔ ذرا سی نظر چُوکی اور معاملہ ہاتھ سے نکلا۔ زندگی بسر کرنا پتنگ اڑانے جیسا معاملہ نہیں کہ ڈھیل دیتے جائیے۔ اہم ترین معاملات سے توجہ ہٹی تو سمجھ لیجیے کہ الجھنیں فکر و عمل کے دامن سے لپٹ جائیں گی۔ ایسے میں ڈھیل چلے گی نہیں، دال گلے گی نہیں۔ عدمِ توجہ کے نتیجے میں ہر اہم معاملہ یوں گم ہو جاتا ہے جیسے بھوسے میں سُوئی۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی معاملہ ہاتھ سے نکل جائے تو اُسے تلاش کرنے اور اُس پر دوبارہ متصرف ہونے میں عمر کا ایک بڑا حصہ کھپ جاتا ہے۔ ماحول میں چاہے جتنی بھی خرابیاں ہوں، اپنے معاملات کی خرابی کے لیے سب سے پہلے اپنے وجود کو ذمہ دار ٹھہرانا پڑتا ہے۔ ڈیل کارنیگی نے کہا تھا کہ کسی بھی معاملے میں آپ قصور وار ہوں نہ ہوں، ذمہ دار تو بہرحال آپ ہی ہیں! یہ ایسا نکتہ ہے کہ جس کی سمجھ میں آگیا اُس کی بات بن گئی۔ بھٹکنے سے بچنے کی بہترین تدبیر کیا ہوسکتی ہے؟ یہ کہ آپ بہت سوچ سمجھ کر، مکمل ہوش کی حالت میں راہ منتخب کریں۔ کسی بھی دو راہے پر غلط راستے کا انتخاب آپ کو اصل راہ سے لمحہ لمحہ دور لے جاتا ہے۔ زندگی کا بھی یہی تو معاملہ ہے۔ بھوسے میں گری ہوئی سُوئی کو تلاش کرنے میں جس دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس سے بچنے کی بہترین صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ہم سُوئی کو بھوسے میں گرنے ہی نہ دیں۔ حواس کی بہترین حالت کے ساتھ اور دانش کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے زندگی بسر کرنے میں محنت تو زیادہ لگتی ہے مگر نتیجہ من چاہا نکلتا ہے۔ جینے کا مزا ہر اُس عمل میں ہے جو دانش کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ 
ہمارا کامل ایمان اِس بات پر ہے کہ ہمیں اِس دنیا کی زندگی صرف ایک بار ملی ہے۔ یہاں واپس نہیں آنا۔ اور یہاں فکر و عمل کے جن مدارج سے گزرنا ہے اُنہی پر ہمارے حتمی نتیجے کا مدار ہے۔ تو پھر کیوں نہ پورے حواس اور دانش کے ساتھ ایسی زندگی بسر کی جائے جس میں ہمارے لیے بھی خیر ہو اور دوسروں کے لیے بھی۔ ایسا اُسی وقت ہوسکتا ہے جب طے کریں کہ خود کو غیر متعلق معاملات کی نذر نہیں ہونے دیں گے اور فکر و عمل کی ہر اُس راہ سے دور رہیں گے جو لاحاصل نتائج کی طرف لے جاتی ہو۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں