نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرکسٹمزحکام کی کارروائی
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:ملزم کاشف نورسےڈیڑھ کلوآئس برآمد،ایئرپورٹ ذرائع
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:ملزم نجی ایئرلائن سےبحرین جارہاتھا،ذرائع
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

سسٹم کی درستی اُدھار رہی

کچھ پتا نہیں چلتا کہ ہم غلط سن رہے ہیں یا پھر وزیر اعظم ایسی باتیں کر رہے ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہیں۔ ماحول ہی کچھ ایسا ہے کہ کوئی کہتا کچھ ہے اور سنائی کچھ دیتا ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ وزیر اعظم خطے کی بدلی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں کچھ کہنے کے بجائے وہ بات کہہ رہے ہیں جو اب تک ہمارے لیے دیوانے کے خواب جیسی رہی ہے۔ سسٹم کا رونا رونے والوں میں اوپر سے نیچے تک سبھی شامل ہیں۔ بڑوں کی محفل میں بیٹھیے یا پھر چھوٹوں کی سنگت میں کچھ دیر بیتائیے، ہر جگہ سسٹم کا رونا رونے والے مل جاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران نے دو دن قبل نتھیا گلی میں بین الاقوامی ہوٹل کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''ہماری جنگ سسٹم کو درست کرنے کے لیے ہے۔ جب بھی نظام خرابی کی جانب جاتا ہے وہ اپنے آپ کو بچانا شروع کردیتا ہے۔ سلطنت عثمانیہ جب سکڑ رہی تھی تب اس کی بیوروکریسی بڑھتی جارہی تھی۔ ہم قانون کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قانون کی بالادستی یقینی بنائے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ کرپشن کے باعث بیرونی سرمایہ کاری نہیں آرہی‘‘۔جو کچھ وزیر اعظم نے کہا وہ حرف بحرف درست اور حقیقت ہے۔ سسٹم کی خرابی ہی کے باعث ہم آج تک اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ اقوامِ عالم میں آج پاکستان کی حیثیت معمولی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ہمارا بُرا چاہتے ہیں۔ چند ایک ممالک تو ایسا چاہتے ہیں، اکثریت کو کیا پڑی ہے کہ ہمارے لیے خواہ مخواہ بدگمان ہو۔ ہماری اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد کی کمی ہے۔ انتشار اس قدر ہے کہ معاملات دیکھتے ہی دیکھتے کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کئی عشروں سے خرابیوں کی لپیٹ میں ہے۔ ویسے تو خیر 1971ء سے قبل بھی ہمارے ہاں مشکلات ہی مشکلات تھیں مگر ملک کے دو لخت ہونے کے سانحے کے بعد تو معاملات نے عجیب رُخ اختیار کر لیا۔ 1970 کی دہائی میں ملک پہلے تھوڑا سا درستی کی راہ پر گامزن ہوا، خلیجی ممالک میں پاکستان کی افرادی قوت کے کھپنے سے ملک کے لیے تھوڑی بہت خوش حالی اور فارغ البالی کا دور شروع ہوا مگر اُس دہائی کے اواخر میں جب سابق سوویت یونین کی افواج نے افغانستان پر لشکر کشی کی تو ''ریچھ‘‘ کو گرم پانیوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے لازم ہوگیا کہ غیر معمولی نوعیت کی مزاحمتی دیوار کھڑی کی جائے۔ امریکا اور یورپ کی مدد سے یہ مزاحمتی دیوار کھڑی کی گئی جسے مجاہدین کا نام دیا گیا اور اس سلسلے میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کیا پاکستان نے۔ بدلے میں پاکستان کو مغرب سے کچھ ملا بھی مگر یہ بتانے کی ضرورت شاید نہیں کہ اِس کے نتیجے میں ہمیں دینا کیا پڑا۔ امریکا اور یورپ کی لڑائی لڑتے وقت ہم بھول گئے کہ جب گرد بیٹھ جائے گی تب کیا ہوگا کیونکہ ہمیں تو اِسی خطے میں رہنا ہے۔ امریکا اور یورپ تو اپنا اپنا بوریا بستر لپیٹ کر چل دیں گے۔ سوویت یونین کی افواج کے رخصت ہونے پر یہی ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ طالبان کی شکل میں خطے میں کوئی نیا ماڈل ابھرنے سے روکنے کے لیے دونوں کو نئے بہانے سے واپس آنا پڑا۔
وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ وطن سے محبت کے معاملے میں کسی سے کم نہیں مگر اِس مرحلے پر ہمیں عبدالحمید عدمؔ یاد آئے بغیر نہیں رہ سکے۔ اُن کا مشہورِ زمانہ مقطع ہے ؎
عدمؔ! خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے
ستم ظریف بڑے جلدباز ہوتے ہیں!
کسی بھی بڑی اور حقیقی تبدیلی کے لیے تحمل لازم ہے۔ جو کسی کاز کے حامل ہوں اور مخلص بھی ہوں وہ لامحالہ تھوڑے سے عجلت پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہر خواب کو شرمندۂ تعبیر ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی بڑی اور حقیقی تبدیلی کے لیے بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، کئی صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ فطری ہے۔ برسوں بلکہ عشروں کا بگاڑ قلیل سی مدت میں دور نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعظم صاحب کے بارے میں ہم سبھی جانتے ہیں کہ وہ قائدانہ کردار ادا کرنے کے معاملے میں غیر معمولی جوش و خروش کے حامل اور عادی رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اُن میں خطرات مول لینے کا وصف بھی پایا جاتا ہے۔ وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے تب بھی خطرات مول لے کر فتح کا امکان پیدا کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ یہ بھی ایک انوکھی مشکل ہے۔ خان صاحب کو اس امر کا قائل کرنا بہت مشکل ہے کہ کرکٹ کے میدان اور سیاست کی دنیا میں بہت فرق ہے۔ جو کچھ انہوں نے کرکٹ میں کیا وہ یہاں زیادہ کام نہیں آسکتا۔ سیاست ایسا بہت کچھ چاہتی ہے جو کرکٹ کی دنیا میں بالکل نہیں پایا جاتا۔
سسٹم کی درستی کوئی ایسا کام نہیں کہ کوئی سیاسی جماعت محض ایک مدتِ اختیار کے دوران کر گزرے۔ یہ کسی ایک شخصیت کے بس کی بات بھی نہیں۔ کوئی کتنا ہی اثر و رسوخ رکھتا ہو، سسٹم سے نہیں ٹکرا سکتا۔ اگر سوچے سمجھے بغیر کچھ کیا جائے گا تو اُس کا نتیجہ وہی برآمد ہوگا جو ہوسکتا ہے یعنی مزید خرابی۔ وزیراعظم صاحب کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو جمع کرکے بڑی کامیابی میں تبدیل کرنے کا نہیں سوچتے۔ کرکٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے پر اُنہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ ہر اننگز صفر سے شروع ہوتی ہے، ٹیم کی بھی اور ہر کھلاڑی کی بھی۔ پچاس اوورز میں چار سو رنز بنانا ہوں تب بھی ابتدا تو صفر ہی سے ہوگی۔ خان صاحب کا سیاسی سفر کم و بیش پچیس برس کو محیط ہے مگر اقتدار و اختیار کی راہ پر گامزن ہوئے تو انہیں ابھی محض تین سال ہی گزرے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ اِس سے قبل انہیں ملک کو چلانے والے معاملات سے جڑنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اگر دس پندرہ سال وفاقی حکومت کا حصہ رہے ہوتے تو وہ سسٹم کو درست کرنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکالنے میں ضرور کامیاب ہوتے۔ کسی بھی سسٹم کو درست کرنے کے لیے کسی بھی اور وصف سے بڑھ کر حقیقت پسندی درکار ہوتی ہے۔ حقیقت پسندی کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ انسان حالات و واقعات کی روشنی میں سوچے، کوئی رائے قائم کرے اور اُس سے مطابقت رکھنے والا عمل اختیار کرے۔ یہ وقت سسٹم کی درستی سے کہیں بڑھ کر ملک کے لیے نئی راہوں کے تعین کا ہے۔ خطے میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ افغانستان کی بدلی ہوئی صورتِ حال نے اور بھی بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے اس خطے سے نکل جانے کے نتیجے میں اُن کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔ پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ایسے میں لازم ہوگیا ہے کہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن معاملات پر زیادہ توجہ دی جائے جو فوری ترجیح کا درجہ رکھتے ہیں۔
اِس وقت ہمیں وہی کرنا ہے جو وقت کا تقاضا ہے۔ سسٹم کی خرابیاں دور کرنا ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ کوئی بھی ملک ہم سے چاہے جتنا بھی اُنس یا ہمدردی رکھتا ہو‘ اِس بات میں دلچسپی نہیں لے سکتا کہ ہمارے ہاں کیا چل رہا ہے۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ اِن مفادات کا حصول و تحفظ یقینی بنانا اُن کے لیے اولین ترجیح کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی ترجیحات پر نظر رکھتے ہوئے چلنا ہو گا۔ ہمارے ہاں بہت کچھ درست ہونا چاہیے مگر یہ وقت اندرونی معاملات سے کہیں بڑھ کر بیرونی معاملات پر نظر رکھنے اور اُنہیں درست رکھنے کا ہے۔ ہماری قیادت کو خطے کی بدلی ہوئی صورتِ حال کے مطابق بہت کچھ اپنانا اور دوسرا بہت کچھ چھوڑنا ہے۔
افغانستان میں معاملات نے بالکل مختلف رخ اختیار کرکے ہمیں بہت کچھ سوچنے کی تحریک دی ہے۔ ایسے میں پوری توجہ کے ساتھ ترجیحات کا نئے سِرے سے تعین لازم ٹھہرا ہے۔ اس وقت سفارتی اور سٹریٹیجک معاملات کسی بھی دوسرے معاملے سے بڑھ کر ہیں۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں سے تعلقات بہتر بناکر قومی مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کو اس وقت غیر معمولی توجہ درکار ہے۔ ایسے میں اُن باتوں کا ذکر مناسب نہیں جن کا راگ عشروں سے الاپا جارہا ہے۔ سسٹم کو پھر دیکھ لیا جائے گا‘ فی الحال خطے میں نمایاں ہونے پر توجہ دی جائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں