نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میئر کراچی کو بااختیار بنانےپر متفق
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کےدرمیان بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق،ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- مئیر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: مئیر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ ہوا ہے،ناصر حسین شاہ
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

جب تک ہے دم میں دم

کسی بھی معاشرے میں اکثریت اُن کی ہوتی ہے جو دعووں کے بل پر جیتے ہیں۔ کوئی ستارے توڑ کر لانے کا دعویٰ کرتا ہے اور چند قدم چلتا ہے کہ ہمت جواب دے جاتی ہے۔ کوئی ساری دنیا سے ٹکرانے کی بات کرتا ہے مگر حتمی تجزیے میں وہ اپنے ہی گھر والوں سے متصادم ہونے کی ہمت بھی اپنے اندر پیدا نہیں کر پاتا۔ شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں میر تقی میرؔ نے کہا تھا ؎
وے زورور جواں جنہیں کہیے پہاڑ تھے
جب آئی موجِ حادثہ، تنکے سے بہہ گئے
عمومی سطح پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ زندگی سو رنگ کی ہوتی ہے اور ہزار رنگ دکھاتی ہے۔ کب کیا ہو جائے کسی کو کچھ اندازہ نہیں ہو پاتا۔ جو روئے ارض پر ہے اُسے ہر دم چوکس رہنا ہے، چوکنا رہنا ہے۔ زندگی کا تماشا یوں ہی جاری رہتا ہے۔ کبھی کھٹاس بڑھ جاتی ہے اور کبھی مٹھاس۔ حالات ہمیں زمانے کے سرد و گرم سے رُوشناس کراتے ہیں۔ زندگی ہم سے بہت کچھ چاہتی ہے۔ سب سے بڑا تقاضا شجاعت کا ہے۔ میر تقی میرؔ کے بقول بعض جوان پہاڑ کے مانند جاندار و طاقتور تو دکھائی دیتے ہیں مگر در حقیقت ایک موجِ حادثہ کی مار ہوتے ہیں۔ بدلے ہوئے ناموافق حالات کا محض ایک تھپیڑا بھی اُن سے برداشت نہیں ہو پاتا۔ ایران توران کی ہانکنے والے جب خود کو مشکلات میں گھرا ہوا پاتے ہیں تو ایک قدم بھی بڑھ نہیں پاتے اور آن کی آن میں ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ ایک لمحے کو بھی خیال نہیں آتا کہ زندگی جیسی نعمت اس لیے نہیں ملی کہ ہمت ہار کر ٹھکانے لگادی جائے۔
انسان کا معاملہ بھی بہت عجیب ہے۔ آپ ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہوں گے اور چند ایک کو ذاتی طور پر جانتے بھی ہوں گے جو کسی بھی طرح کی مشکل کیفیت سے ہمت نہیں ہارتے، اپنے حصے کا کام کرتے ہیں، زندہ بھی رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بلند حوصلے کا نمونہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں ایسے لوگ مثال کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ اُنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ دوسری طرف آپ ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہوں گے جو معمولی سی پریشانی بھی جھیل نہیں پاتے، تمام کا تمام کرو فر پل میں جواب دے جاتا ہے۔ کوئی بہت تیزی سے ہمت کیوں ہار بیٹھتا ہے اور کوئی انتہائی نوعیت کی مشکلات کو بھی بخوشی کیونکر جھیلتا ہے، یہ سوال ہر اُس انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے جو زندگی کو نعمت گردانتے ہوئے اُسے ہر حال میں برقرار رکھنے پر متوجہ رہتا ہے۔ حالات سے پوری دیانت اور مطلوب شجاعت یا ہنر مندی کے ساتھ لڑنا ہر انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ حالات کسی کا حوصلہ تو پست نہیں کر پاتے مگر وہ سمجھ نہیں پاتا کہ حالات کو برداشت کیسے کیا جائے اور اپنے لیے کوئی راستا کیسے نکالا جائے۔ ہمت ہار بیٹھنے والوں کی طرح ایسے لوگ بھی بہت تیزی سے زندگی جیسی نعمت کو خاک میں ملا بیٹھتے ہیں۔
سارا معاملہ تربیت اور ماحول کا ہے۔ جن گھرانوں میں بچوں کی تربیت پر غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے اُن میں بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ تعلیم اور تربیت کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ اخلاقِ حسنہ کی روح تک بھی پہنچتے ہیں اور مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ ہی اپنے اندر پیدا نہیں کرتے بلکہ اس حوالے سے درکار ہنر مندی بھی کسی نہ کسی طور جُٹا ہی لیتے ہیں۔ زندگی وہ نعمت ہے جسے کسی بھی حال میں نظر انداز کیا جاسکتا ہے نہ لاپروائی کی نذر کیا جاسکتا ہے۔ جو ایسا کرتے ہیں اُنہیں دنیا اور آخرت‘ دونوں ہی جگہ بھگتان کرنا پڑتا ہے۔ ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم پاکستانی خاصے بے ہنگم ہیں۔ اگر پورے ماحول کا محض سرسری جائزہ لیں تو کہیں کچھ بھی درست دکھائی نہیں دیتا۔ معاملات نے جیسے طے کرلیا ہے کہ بگڑنا ہی نہیں بلکہ بگڑتے چلے جانا ہے۔ کوئی ایک معاملہ بھی درست دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں بدیہی طور پر حوصلہ بیٹھ بیٹھ جاتا ہے۔ تھوڑا سا ٹھہر کر، ذرا سُکون سے جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوگیا، ابھی بہت کچھ باقی ہے اور بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ کوئی معاملات کو کس طور لیتا ہے۔ اگر تربیت نہ پائی ہو، مورال بلند رکھنے کا ہنر نہ سیکھا گیا ہو تو انسان جھٹ سے بے حوصلہ ہونے کی طرف چلا جاتا ہے۔
ہر دور میں زندگی مختلف چیلنجز پیش کرتی رہی ہے۔ ہاں! آج کا دور بہت مختلف اس لیے ہے کہ اب چیلنجز کی تعداد بھی زیادہ ہے اور نوعیت بھی خاصی پیچیدہ ہے۔ ایسے میں کامیاب وہی ہو پاتے ہیں جو ہمہ وقت کسی بھی طرح کی صورتِ حال کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اپنے ماحول میں آپ کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو ذرا سی پریشانی کی آمد پر دنیا سے رخصت لینے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ کیا واقعی ہمیں ملنے والی زندگی ایسی ہی بے وقعت ہے کہ ہم بات بات پہ مرنے کے بارے میں سوچیں؟ زندگی جیسی نعمت کو برتنے کا ہنر سیکھنے میں کیا قباحت ہے؟ مشکلات تو کم و بیش ہر انسان کی زندگی میں ہوتی ہیں۔ عمومی سطح پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ محض مالی مشکلات ہی مشکلات ہیں، باقی کوئی الجھن حتمی تجزیے میں الجھن ہے ہی نہیں۔ ایسا نہیں ہے! ہم ایک ایسی دنیا کا حصہ ہیں جس میں سبھی کو اپنے حصے کی پریشانیاں ملتی ہیں۔ جو لوگ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا اہتمام کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اَن تھک محنت کے مرحلے سے گزرتے ہیں وہ یہ سوچ کر ملول نہ ہوں کہ صرف وہی الجھن میں ہیں۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ جس کے پاس آنے والی سات نسلوں کی گزر بسر کے وسائل موجود ہیں وہ بھی الجھنوں کا شکار ہے۔ اُس کی زندگی میں بھی ایسے بہت سے معاملات ہیں جو مادّی آسودگی کا مزا کرکرا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس کیا ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ زندگی الجھنوں سے آزاد اور مبرا ہے یا نہیں۔ کسی بھی مشکل صورتِ حال میں شیطان ہمارے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات ڈالتا ہے کہ ایسے جینے سے تو مر جانا اچھا۔ شیطان ہمارے ذہنوں میں قنوطیت کا افسوں پھونک کر ہمیں باور کراتا ہے کہ موت ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ وہ قدم قدم پر یقین دلاتا ہے ؎
آ ہی جائے گا اِک دن ہمیں بھی قرار
آخرِ کار ہم بھی تو مر جائیں گے!
اِس وقت مشکل وقت چل رہا ہے۔ معاشرہ غیر مستحکم ہے۔ کیوں نہ ہو؟ معیشت جو غیر مستحکم ہے۔ ایک طرف افلاس ہے اور دوسری طرف بے روزگاری۔ رہی سہی کسر معاشرتی رویوں نے پوری کردی ہے۔ جو اپنی پوزیشن کو کمزور کیے بغیر کسی کی مدد کرسکتے ہیں وہ بھی مٹھی بند کیے بیٹھے ہیں اور حالات کا رونا روتے پائے جاتے ہیں۔ جن کی زندگی میں واقعی الجھنیں ہیں اُن کے بارے میں پوری دیانت سے سوچنے والوں کی کمی ہے۔ جو لوگ حالات کی چکی میں بُری طرح پس رہے ہیں اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے والے کم ہیں اور طعنے دینے، تمسخر اڑانے والے کہیں زیادہ۔ کوئی ساتھ دیتا ہے یا نہیں‘ یہ الگ معاملہ ہے۔ سب سے پہلے تو خود اُسے معاملات کو سمجھنا ہے جس کے معاملات بگڑے ہوئے ہیں۔ جب معاشی الجھنیں بڑھ جائیں اور معاشرتی سطح پر بھی شدید پیچیدگیاں پائی جائیں تب مایوسی کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ایسے کسی بھی انسان کے مایوس ہونے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ الجھنوں کا سامنا پامردی اور مثبت سوچ کے ساتھ کرتے ہوئے زندگی بسر کرنا ہی تو ہمارے لیے اصل آزمائش کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک ڈیڑھ عشرے کے دوران خود کشی کے دو تین واقعات ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مالی مشکلات سے نبرد آزما رہنے والوں کا مایوس ہو اُٹھنا فطری امر ہے مگر ہمیں اِس سطح سے بلند ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک دم میں دم ہے تب صرف اُمید کا دامن تھامے رہنا ہے۔ خود کشی کسی بھی حالت میں مسائل کا حل نہیں۔ اللہ نے جن کی کفالت کی ذمہ داری سونپی ہو اُنہیں زندگی کے سمندر کی بے رحم موجوں کے حوالے کرکے موت کے ساحل پر اُتر جانا کسی بھی اعتبار سے درست عمل نہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں