نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈیرہ بگٹی:کوہلومیں آسمانی بجلی گرنےسےخاتون سمیت 3افرادجاں بحق،2زخمی
  • بریکنگ :- ڈیرہ بگٹی:کوہلومیں آسمانی بجلی گرنےسےخاتون سمیت 3افرادجاں بحق،2زخمی
Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

پچاس لاکھ گھر منصوبہ

پی ٹی آئی جب سے بر سرِ اقتدار آئی ہے اس وقت سے اسے مخالفین کی جانب سے اس طعنے کا سامنا ہے کہ عوام سے جو پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا تھا وہ کہاں ہیں؟ کئی تو ایسے نام نہاد نقاد بھی ہیں جو پہلے دن سے حساب کر کے بیٹھے تھے کہ اگر پانچ سال میں پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا ہے کہ تو اس کا مطلب ہے کہ ہر سال میں دس لاکھ گھر، ہر مہینے میں 83333، ہر روز کے 2739 گھر اور ہر گھنٹے میں 115 گھر۔ یہ لوگ ہر گزرتے دن کے بعد وزیراعظم کو مخاطب کر کے پوچھا کرتے ہیں کہ جناب حکومت نے وعدہ کیا تھا‘ اتنے گھر ‘ جو اب تک بن جانے چاہیے تھے‘ وہ کیوں نہیں بن سکے؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار یہ بات واضح کی ہے کہ حکومت ایسے حالات پیدا کرتی ہے‘ ایسے عوامل کو یکجا کرتی ہے اور ایسے پروسیس کو آسان بناتی ہے جن سے عوام کے لیے گھروں کا حصول ممکن ہوتا ہے مگر پچاس لاکھ گھروں کو پی ٹی آئی حکومت کے لیے طعنہ شاید اس لیے بھی بنا دیا گیا کہ کچھ لوگوں نے اسے مفت گھروں سے تعبیر کیا۔ یعنی حکومت پچاس لاکھ گھر تعمیر کر کے لوگوں میں مفت تقسیم کرے گی۔ حالانکہ اگر ترقی یافتہ ممالک کی جانب دیکھا جائے تو باوجودیکہ روٹی‘ کپڑا اور مکان‘ کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے‘ کوئی بھی حکومت اپنے عوام کو مفت یہ چیزیں فراہم نہیں کرتی۔ پچاس لاکھ گھروں سے متعلق پی ٹی آئی کا کیا وژن تھا‘ اس حوالے سے وزیراعظم خود کئی بار تصحیح کر چکے ہیں کہ حکومت کنسٹرکشن کے شعبے کو رواں رکھنا چاہتی ہے کیونکہ جب کنسٹرکشن کا شعبہ چلتا ہے تو اس سے وابستہ دیگر چالیس صنعتیں بھی پروان چڑھتی ہیں اور یوں کروڑوں لوگوں کو روزگار میسر آتا ہے۔
عام انتخابات 2018ء سے پہلے دیگر سیاستدانوں کی طرح خان صاحب نے اعلانات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا کہ وہ پچاس لاکھ گھر تعمیر کریں گے اور ایک کروڑ نوکریاں فراہم کی جائیں گی لیکن ابھی ان کی حکومت کو تین ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری اور نواز لیگ سمیت شکست خوردہ تمام سیاستدان یک آواز ہو کر کہنا شروع ہو گئے کہ کہاں ہیں وہ پچاس لاکھ گھر؟ ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں؟ جب وہ یہ بیانات جاری کر رہے تھے تو کسی کو یہ خیال نہ گزرا کہ ان سے
صرف اتنا ہی پوچھ لیا جائے کہ جناب آپ کو نومنتخب حکومت کے چند ماہ میں ہی پچاس لاکھ گھروں کی فکر ستانے لگی ہے‘ پی پی پی مرکز میں اب تک وقفے وقفے سے پندرہ برس جبکہ سندھ میں گزشتہ تیرہ برسوں سے مسلسل حکومت کر رہی ہے تو سب سے پہلے آپ فرما دیں کہ کدھر ہے آپ کا وہ روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ؟ کیاآپ نے اپنے عرصۂ اقتدار کے چار مرحلوں میں سب کو روٹی‘ کپڑا اور مکان فراہم کر دیا؟ اسی طرح نواز شریف صاحب اور مریم نواز صاحبہ سمیت پوری نون لیگ ٹی وی پر آتے ہی حکومت پر گرجنا برسنا شروع ہو جاتی ہے کہ حکومت نے عوام کو چھت کیا فراہم کرنا تھی‘ عوام کے سروں سے چھت چھین لی، کدھر ہیں ایک کروڑ نوکریاں‘ کہاں ہیں پچاس لاکھ گھر؟ یہاں حیرانی کی بات یہ ہے کہ نوکریوں کی بات وہ کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ایک ہی وار میں آدھے پاکستانی بینکوں کے لاکھوں ملازمین کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس طرح فارغ کیا کہ صبح جب وہ اپنے اپنے بینکوں میں فرائض انجام دینے کیلئے پہنچے تو گیٹ پر ان کے نام کی فہرستیں چسپاں کرتے ہوئے پولیس کی مدد سے دھکے دیتے ہوئے ان ملازمین کو بھگا دیا گیا کہ آپ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
اب اگر گھروں کی تعمیر کے حوالے سے حکومت کے کاموں کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً نصف مدت کے بعد ''نیا پاکستان ہائوسنگ‘‘ سکیم کے تحت گھروں کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے لئے یہ دو سال بھی اس لئے تاخیر کا باعث ہوئے کہ قبضہ گروپوں کی جانب سے پنجاب ہی نہیں‘ ملک بھر میں سرکاری زمینوں پر قبضوں کے معاملات طے ہونا باقی تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر بینکوں سے انتہائی آسان شرائط پر قرضوں کا حصول تھا اور پھر جن مقامات پر قبضہ گروپوں نے سٹے آرڈر لے رکھے تھے‘ ان کا معاملہ الگ تھا۔ اس کے بعد ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے بے گھر افراد کو سستے ترین گھر دینے کیلئے کچھ قانونی اور مالی تقاضوں کی رکاوٹیں دور کرنے کیلئے اجا زت لینا تھی۔
موجودہ حکومت اب تک اس لئے پی پی اور نواز لیگ سمیت اپوزیشن جماعتوں کے طعنے برداشت کر رہی ہے کہ کل تک کسی حکومتی عہدیدار کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی کہ گھروں کی تعمیر اس لیے نہیں ہو سکی کہ معاملات ملک کی مختلف عدالتوں اور بینکنگ کونسل میں زیر التوا تھے کیونکہ اس سے قبل آشیانہ اور پیلی ٹیکسی سکیم نے ملکی بینکوں کے ساتھ جو کیا‘ اس کے بعد کوئی بھی کسی ایسے منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں جہاں سے اسے مکمل پے بیک کی گارنٹی نہ دی جائے ۔
افسوس کہ نام نہاد حکومتی ترجمان اپوزیشن جماعتوں سے اتنا پوچھنے کی بھی ہمت نہیں کر سکے کہ ہمیں کوسنے دینے کے بجائے پیلی ٹیکسی سکیم میں ضائع کئے گئے عوام کے 24 ارب روپوں کا حساب تو دیں۔ اب فرخ حبیب جیسے پارٹی کارکن کو وزیر مملکت برائے اطلاعات کا منصب سونپا گیا ہے تو امید کی کرن روشن ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کے معاملات کچھ بہتر ہونا شروع ہوں گے۔ وزیراعظم خود بھی کئی بار یہ گلہ کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا گراف جو گرتا جا رہا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتی پارٹی اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔ حکومتی ترجمان اور مشیران اپنے مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور پارٹی سے کسی کو کوئی غرض نہیں۔ شاید انہوں نے سوچ رکھا ہے کہ جہاں سے یہ پارٹی میں آئے تھے‘ آئندہ الیکشن سے قبل واپس وہیں چلے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کو فوری طور پر اسلام آباد کے بعد لاہور میں میڈیا سیل کو متحرک کرنا ہو گا کیونکہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن بالخصوص نواز لیگ کا میڈیا سیل بہت آگے جا چکا ہے جس پر یقینا کچھ خاص عنایات بھی ہیں۔ خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے درست کہتے تھے کہ ا ن کے آدمی ٹی وی کے کھلاڑی نہیں ہیں جبکہ اپوزیشن کے لوگوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ شِکرے ہیں جو آن کی آن میں مخالف پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ آج جب پی ٹی آئی کو اقتدار میں آئے پونے تین سال ہونے کو ہیں‘ ابھی تک ان کا میڈیا سیل اپوزیشن کا عشر عشیر بھی نہیں بن سکا اور وزیراعظم کے بار بار احکامات کے باوجود ابھی تک کوئی اس پر سنجیدگی دکھانے کو تیار نہیں جبکہ آج کی جنگیں اور سیاسی مقابلے میڈیا کے بل بوتے پر ہی جیتے جاتے ہیں کہ سیاہ کو سفید اور بے گناہ کو سب سے بڑا گناہ گار بنا کر پیش کرنا پروپیگنڈا سیل کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے۔
حکومت پر تنقید میں مسلم لیگ نواز سب سے پیش پیش ہے‘ کیا کوئی اُس سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کرے گا کہ 1985ء میں نواز شریف کی پہلی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں پنجاب کی ہر تحصیل میں ڈیڑھ مرلے کے سرخ اینٹوں والے گھروں کی ایک سکیم شروع کی گئی تھی جس پر آج سے35 برس پہلے سات ارب روپے خرچ کیے گئے تھے مگر وہ گھر چند مہینوں بعد ہی بغیر کسی کی ملکیت میں آئے‘ اجڑ کر جانوروں کے باڑوں کی شکل اختیار کر گئے۔ اس سکیم کا کیا بنا؟ یہ منصوبہ کیوں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا؟ کیوں غریبوں کو چھت فراہم نہ کی جا سکی؟
اگر پنجاب حکومت مناسب سمجھے تو کھنڈرات کی صورت میں جرائم پیشہ افراد کی کمین گاہ بن چکے ان گھروں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انہیں دوبارہ قابل استعمال بنانے پر بھی غور کرے۔ اپنے دس دس اور بیس بیس سالہ ادوارِ حکومت میں عوام کے سروں سے چھت تک چھین لینے والے اور عوام کو قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے والے آج ہر پریس کانفرنس اور میڈیا ٹاک میں حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ کہاں ہیں وہ پچاس لاکھ گھر؟ ویسے حکومت کو بھی چاہیے تھا کہ وہ گھروں کی تعداد دس لاکھ اور نوکریاں پچیس لاکھ تک ہی کہتی تو اچھا تھا۔دیر آید‘ درست آید‘ رائیونڈ پاجیاں سمیت پنجاب بھر میں سو سے پانچ سو گھروں کے یونٹ ایک سال تک مکمل کئے جائیں گے جس کیلئے بورڈ آف ریونیو پنجاب کے 35 اضلاع کے 133 مختلف مقامات پر زمین اور فنڈز فراہم کر دیے گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی تکمیل کیلئے FWO اور NLC جیسے بہترین اداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس سے کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے راستے بند ہو گئے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں