1970ء میں علامہ علائوالدین صدیقی ہمارے وائس چانسلر تھے۔ کیا نفیس طبع تھے؟ بھاری بھرکم شخصیت، ایک دم سفید چوڑا چکلا چہرہ، سفیدی مائل ملگجی داڑھی…ان کے ہونٹوں سے سرسراتے ہوئے اُردو کے الفاظ یوں قطار باندھے باہر آتے جیسے وہ کسی زنجیر کی کھنکھناتی ہوئی کڑیاں ہوں۔ علامہ صاحب فکری طور پر تقسیمِ ہند سے قبل کی دنیا میں رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو ’آپ‘ جیسے خوشبودار الفاظ میں مخاطب کرنے کے عادی تھے۔ علامہ صاحب بہت دھیمی مگر مذہبی شخصیت تھے۔ وہ ہر جمعہ کی نماز ہائیکورٹ میں پڑھاتے یعنی جج حضرات ان کے معتقد تھے، یونیورسٹی کے اساتذہ ان کے زیرِ دست اور طلبأ اُن کے شاگرد! علامہ صاحب نے غالباً پنجاب یونیورسٹی ہی سے ایم اے اسلامیات کر رکھا تھا۔ اگر میری یادداشت درست ہے تو وہ ہمارے آخری وائس چانسلر تھے جو ایم اے ہونے کے باوجود وائس چانسلر بنے اور ان کی ہتھیلی کے نیچے صدہا پی ایچ ڈی پروفیسرز اور ڈاکٹرز خوشی خوشی اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لیے یونیورسٹی کے دروازے سے خارج ہوئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے اسلامی مجاہدوں اور نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مہا انقلابیوں کے مابین اکثر نیو کیمپس میں مورچہ بندی ہو جاتی اور ایک دوسرے کے خلاف دست بدست یُدھ شروع ہو جاتا۔ ایک دن ایسی ہی ماردھاڑ جاری تھی کہ گورنمنٹ کالج (اب جی سی یو) سے جمعیت کو کمک پہنچ گئی۔ جنگ نے مزید شدت اختیار کرلی۔ تھوڑی دیر بعد نعرہ بلند ہوا کہ وائس چانسلر نیو کیمپس تشریف لا رہے ہیں۔ جمعیت کے دوچار لڑکے مظلوم شکل بنائے اپنے اکلوتے زخمی ’مردِ مجاہد‘کے سر پر رومال لہرا رہے تھے تاکہ اس کے سانس کے آنے جانے میں دشواری نہ ہو اور اُدھر ہم نے شعبۂ فلسفہ کے کونے میں پڑی ٹیبل ٹینس کی میز پر ایک عدد ’زخمی‘ لٹا رکھا تھا۔ نوجوان کا نام خالد محمود تھا اور اگر میری یادداشت بالکل گم نہیں ہو چکی تو وہ بہاولنگر کا رہنے والا تھا۔ علامہ صاحب جونہی پہنچے ہم نے اُن کے بائیں بازو کو تھاما اور اپنے مریض کو دکھانے کے لیے کھینچنے لگے۔ دوسری طرف جمعیت کے نوجوان یہ حالتِ زار دیکھ کر ہماری جانب بڑھے۔ وہ اپنے ’زخمی‘ کو چادر میں اُٹھائے علامہ صاحب کی جانب بڑھے۔ انھوں نے اُسے ان کے راستے میں رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے زخمی نوجوان کی کیا حالت ہو چکی ہے؟ علامہ صاحب نے ہماری جانب دیکھا اور کہا دیکھو تم نے اس کا کیا حشر کر دیا ہے۔ علامہ صاحب نے جمعیت کے برخوردار پر دستِ شفقت پھیرا اور ہماری جانب آئے اور دور ہی سے حکم دیا ’’نالائقو! اس کے بوٹ اُتارو اور اس کے پائوں کی مالش کرو‘‘۔ ہم نے دو لڑکوں کو اس کے پائوں سے بوٹ اُتارنے اور ہاتھوں کی مالش پر لگا دیا۔ جب وہ لڑکے اس کے بوٹ اتارنے کے لیے اس کے پائوں کی جانب بڑھے تو اس نے ایک آنکھ ذرا ترچھی کی اور قریب کھڑے لڑکے کو اپنی ٹیڑھی آنکھ سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا۔ وہ لڑکا اس کی مالش کرتا ہوا اس کی گردن تک آ گیا تو ہمارے ’زخمی‘ خالد محمود نے آہستہ سے اس کے کان میں کہا ’’میرے جوتوں کا دھیان رکھنا، ایک ہجوم برپا ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی میرے نئے جوتے لے اُڑے‘‘۔ اس نے علامہ صاحب کے سامنے ایک ایسی زبردست ایکٹنگ کی کہ علامہ صاحب بھی تھرا اُٹھے…رہا جمعیت کا مظلوم تو وہ اس کے آگے بالکل نہیں جم پایا۔ خالد محمود کی ہابی بھی انوکھی تھی۔ وہ کسی ریستوران کھانے جاتا یا پھر یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا کو رونق بخشتا تو واپسی پر وہ ایک دو چمچ اور کانٹا نیفے میں اُڑس لاتا۔ اس کے کمرے کی اصل زینت ہر نسل کے انہی چمچوں اور کانٹوں سے سجی تھی۔ دیوار کا کوئی ایسا کونہ نہ تھا جس پر ہر نسل، ہر سائز اور ہر ہوٹل کے کانٹے نہ لٹکے ہوں ۔ وہ ہاسٹل میں ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا۔ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں صرف تین ہاسٹل تھے۔ ایک شام وہ چہچہاتے ہوئے کیفے ٹیریا کی جانب آیا اور ایک خالی کرسی پر پائوں رکھ کر بڑے حاکمانہ انداز میں ہمیں یہ اطلاع دی کہ جس نے مجھ سے ملنا ہے ابھی مل لے…کیونکہ میں کل صبح امریکہ جا رہا ہوں۔ ہم نے اس کی بات کو ہنسی مذاق کی نذر کر دیا لیکن وہ دوسرے دن واقعی نیویارک کی جانب پرواز کر گیا۔ کوئی آٹھ نو ماہ ہی گزرے ہوں گے کہ وہ کیفے ٹیریا کے ایک کونے میں کھلکھلاتا ہوا ہماری جانب آتا دکھائی دیا۔ ہم سب دوست اس کی جانب دوڑے اور اس کا جسمانی معائنہ کیا کہ امریکیوں نے کہیں اس کی بنیادیں تو نہیں اُڑا دیں۔ اس سے پوچھا، ’’کیا امریکہ نے تمہیں وطن بدر کر دیا؟ آخر ہوا کیا؟‘‘ اس نے بآوازِ بلند شانت شانت کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا، ’’میں نے وہاں ایک فارمولا تیار کیا، جس کے لیے امریکہ کے لاکھوں کالے ابھی سے پاگل ہو رہے ہیں۔ میں وہ فارمولا یہاں بنانے آیا ہوں۔ میں نے واپسی پر بہاولنگر میں بہت سے لوگوں کو اس فارمولے کے استعمال میں آنے والے چھوٹے سے جانور کو پکڑنے کی ایک اچھی خاصی پیشکش کی ہے‘‘۔ اس کے فارمولے کی ساخت اور اس کی گفتگو پر یار لوگوں نے خوب نقشہ کھینچا۔ تقریباً ایک ماہ بعد وہ واپس امریکہ چلا گیا لیکن پھر اس سے کوئی ملاقات نہ ہو سکی۔ اب کبھی کبھی خیال آتاہے کہ ہمارے ہاں سانڈے بھی دو قسموں کے ہو چکے ہیں…رنگ اور شکل تو وہی ہے لیکن شاید اُن کی طاقت میں کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ ایک دن یونیورسٹی میں ایک لڑکے کے دیر سے داخلہ کروانے پر دائیں اور بائیں بازو میں جنگ چھِڑ گئی۔ دائیں بازو والوں کا خیال تھا کہ اس لڑکے کو زبردستی داخل کرایا گیا ہے تاکہ دونوں جانب سے ووٹوں کا بیلنس اُن کے حق میں جا سکے۔ ہم نے جتھا بنایا اور علامہ صاحب کے دفتر کے سامنے چار قنات کا خیمہ لگا کر بطورِ احتجاج بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ کچھ ہی دیر بعد علامہ صاحب کو چپڑاسی نے اطلاع دی کہ باہر ہڑتال جم گئی ہے۔ چپڑاسی نے انہیں ہم سب کے نام بھی گنوائے جو اس قسم کے’ دھماکوں‘ میں سب سے آگے ہوا کرتے تھے۔ الغرض ہم نے ابھی پہلا نعرہ ہی اُٹھایا تھا کہ علامہ صاحب سفید شلوار اور ایک خوبصورت شیروانی پہنے آہستہ آہستہ ہماری جانب بڑھے۔ انھوں نے بڑے پرتکلف انداز میں ہمیں سلام کرنے کا موقع دیے بغیر خود ہی ’السلامُ علیکم ‘ کہہ دیا۔ ہم سب ازروئے احترام اُٹھے ، انہیں سلام کا جواب دیا اور اپنی بھوک ہڑتال کے ارادے سے انہیں آگاہ کیا۔ علامہ صاحب کے لیے یہ چھوٹی موٹی باتیں بھی بہت اذیت کا باعث ہوا کرتی تھیں۔ انھوں نے کہا، ’’ یہ تا دمِ مرگ ہڑتال…یعنی چہ؟ اس کا وجودتو گاہے سیاسی جلسوں میں ہوا کرتا تھا، پنجاب یونیورسٹی میں اس کا داخل ہو جانا ایک المیہ ہے …بہت بڑا المیہ۔‘‘ اُن سے عرض کیا، ’’سر! ہم قطعاً کوئی ہڑتال نہیں چاہتے۔ مار پیٹ کی کوئی خواہش نہیں اور نہ ہم چھوٹے چھوٹے مسائل پر ایک دوسرے کا سر پھوڑنا چاہتے ہیں…صرف معاملہ ایک ساتھی کا ہے جسے بے وقت اس کے ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ دیا گیا ہے۔ یہ آپ ہی کے تحریر کردہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اپنے ہی مینوئل پر جب تک یونیورسٹی عمل نہیں کرتی ہم یہاں سے اُٹھنے والے نہیں۔ ‘‘ علامہ صاحب کو خدا بخشے، انھوں نے ہمیں ٹینٹ سے اُٹھایا اور اپنے قریبی دفتر میں لے گئے۔ اتنے میں ہمارا پھونکا ہوا ایک شرارہ جنگل میں آگ کی مانند دہک رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد جہانگیر بدر اور بہت سارے لاہوریے پہنچ گئے۔ دوسری جانب سے جمعیت کے بہت سے دوست آ گئے جن میں جاوید ہاشمی اور دیگر کئی ساتھی تھے۔ چونکہ علامہ صاحب کے سامنے کیس میں نے پیش کرنا تھا، اس لیے انہیں نہایت آہستگی اور شگفتگی سے اس کیس سے آگاہ کیا ۔ علامہ صاحب کو شستہ اور صاف اُردو بہت پسند تھی۔ الغرض قانونی موشگافیاں جتنی ہمیں ازبر تھیں، ان کی میز پر باری باری نوٹ کرواتے چلے گئے۔ اب جمعیت والوں نے اندر آنا مناسب نہیں جانا کہ کہیں یہ موقع آپس میں مار کٹائی کے سبب ان کے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ علامہ صاحب نے فوراً قلم اُٹھایااور ایک عدد نوٹ لکھا جس میں متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ یہ برخوردار چونکہ وقت گزرنے کے بعد داخل کیا گیا لہٰذا اس داخلے کی کوئی حیثیت نہیں اسے فی الفور خارج سمجھا جائے۔ ہم ابھی باہر نکلنے ہی والے تھے کہ جہانگیر بدر کے ذہن میں ایک نیا خیال اُبھرا۔ اس نے علامہ صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی خالص لاہوری زبان میں کہا، ’’سڑ! جماعت اسلامی والے باہر کھرے ہیں۔ ہم اِدھر سے باہر نکلیں گے وہ اُدھر سے اندر آ جائیں گے…تو پلیز اس پر لکھ دیجئے کہ ہم نے یہ حکم آپ سے زبڑدستی نہیں لکھوایا‘‘۔ مجھے یاد ہے کہ علامہ صاحب نے جہانگیر بدر کے اس تبصرے پر ایک مخصوص قسم کے لہجے میں کہا، ’’یعنی! آپ نے یہ کیا شگوفہ چھوڑا؟‘‘ ہم سبھی بڑے سنجیدہ معاملے پر گفتگو کرنے گئے تھے لیکن یوں جانئے کہ ہم ہنستے ہنستے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہی باہر نکلے۔