نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان کےنائب وزیراعظم کاوزیرخارجہ اوران کےوفدکےاعزازمیں ظہرانہ
  • بریکنگ :- افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ اورکابینہ اراکین کی شرکت
  • بریکنگ :- ملاعبدالسلام حنفی نےوزیر خارجہ اوروفدکو کابل آمد پر خوش آمدیدکہا
  • بریکنگ :- وزیر خارجہ نے پرتپاک خیر مقدم پرطالبان قیادت کا شکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- پاکستان افغان عوام کومعاشی بحران سےبچانےکیلئےپرعزم ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستان انسانی بنیادوں پرمعاونت کیلئےپرعزم ہے، وزیر خارجہ
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

افغانستان میں بھارت کی ناکامی

ہمارا خطہ‘ اور باقی دنیا‘ دونوں ایک بار پھر حالات کی تبدیلی کی نوک پر ہیں۔ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس لے جاتا ہے، اور 'دیگر طاقتیں‘ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے دوڑتی ہیں، تو کسی کو بھی اتنا نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا جتنا امریکہ کے علاقائی سٹریٹیجک پارٹنر بھارت کو۔
یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران، ہندوستان افغانستان میں امریکہ کی ''طویل ترین جنگ‘‘ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک رہا ہے۔ جب نائن الیون کے بعد امریکی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کی تصویر کَشی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے معاشرے کے طور پر کی گئی۔ اس بیانیے نے بھارت کو پاکستان کیخلاف پراکسی جنگ شروع کرنے کیلئے افغانستان میں امریکی موجودگی کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد چند ہی مہینوں میں، ہندوستان نے افغانستان میں اپنی جڑیں گہری کرنا شروع کر دیں، اور اس خطے میں متحدہ فورسز کا قدرتی اتحادی ہونے کا روپ دھار لیا۔
اس ماڈل نے امریکہ کے مفادات کو بھی پورا کیا کہ یہاں ایک بڑا ملک (بھارت) تھا، جو 'دہشت گردی‘ کیخلاف آواز بلند کرنے پر آمادہ تھا، اور مشترکہ دشمنوں کے خلاف امریکہ کو مالی و عسکری/ انٹیلی جنس مدد فراہم کرتا تھا۔ اس معاہدے کو مزید اپنے حق میں کرنے کیلئے بھارت نے امریکہ سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ خطے میں چینی عزائم کو عدم استحکام کا شکار اور خرابی سے دوچار کرکے چین کا راستہ روکے گا۔ اس وعدے نے امریکہ کو اپنے بحرالکاہل کے تھیٹر کو 'انڈو پیسیفک‘ خطے کا نیا نام دینے پر آمادہ کر دیا، جبکہ ہندوستان کو کواڈ (یعنی 'ایشین نیٹو‘) جیسے اتحاد میں بھی شامل کر لیا گیا۔
غیر مزاحم پالیسیوں کی مدد سے امریکی کارپوریٹ ایمپائرز نے ہندوستان کو اپنے پائوں پھیلانے کے لیے ایک مناسب ملک تصور کیا‘ جس سے ہندوستان کی کاروباری معیشت کو فروغ ملا۔ نیز، امریکہ کی ملٹری سپورٹ کے سائے میں بھارت نے بدنام زمانہ جلال آباد قونصل خانے اور اسی طرح کے دیگر سفارتی دفاتر کے ذریعے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس موجودگی کو بڑھایا۔ اتنا ہی نہیں، ہندوستان نے امریکی قائم کردہ افغان حکومت اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے اندر تک رسائی حاصل کرنے کیلئے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری بھی کی۔ ان فوائد کے ساتھ ساتھ امریکی چھتر چھایہ میں ہندوستان نے خطے میں اپنا سب سے زیادہ مذموم منصوبہ شروع کیا‘ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے، ایران کی چابہار بندرگاہ سے افغانستان اور اس سے آگے تک کے لیے ایک تجارتی (اور فوجی) راستے کی تعمیر کا منصوبہ۔ اس تجارتی راستے سے نہ صرف ہندوستانی انٹیلی جنس اور کاروباری افراد کیلئے افغانستان تک راہ ہموار ہو جاتی بلکہ اس کا ایک مقصد سی پیک منصوبے کو کمزور کرنا بھی تھا۔ اس منصوبے کے تناظر میں بھارت نے کلبوشن یادیو جیسے لوگوں کو پاکستان سمگل کرنا شروع کیا، بلکہ کچھ انتہا پسند تنظیموں کی پاکستان کے اندر حملوں کیلئے مالی اعانت بھی کی۔
یہ بظاہر 'نہ رکنے والے‘ ہندوستانی عزائم گزشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران تباہی کا شکار ہو چکے ہیں، جب سے امریکہ افغانستان سے انخلا کے آخری مراحل میں داخل ہوا ہے۔ ہندوستان، راتوں رات، افغانستان میں یتیم ہو گیا ہے۔ خطے میں امریکی فوجیوں کی غیر موجودگی میں بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کے حوالے سے تحفظ سے محروم ہو گیا ہے‘ اور جلال آباد میں واقع اس کا قونصل خانہ بھی ویران ہو گیا ہے۔بھارت کیلئے معاملات اس وقت مزید خراب ہو گئے جب لداخ میں اسے چین کے سامنے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا‘ اور بھارت کی ہزیمت میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ جامع تعاون کا اعلان کیا، جس کے بعد ایران نے چابہار‘ زاہدان ریلوے لائن منصوبے سے بھارت کو خارج کرنے کا اعلان کر دیا۔ یوں افغانستان اور اس سے آگے کے علاقوں کیلئے اس کے عزائم کیلئے دروازے بند ہو گئے۔
ان پیشرفتوں کے بعد، آئیے دیکھیں کہ بھارت نے افغانستان اور ایران میں دراصل کیا کھویا ہے، اور آئندہ برسوں میں اس سے جنوبی ایشیا کی حرکیات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ افغانستان اور ایران میں ہندوستان کے گیم پلان کا مقصد پانچ مخصوص مقاصد حاصل کرنا تھا: (1) بھارت کے امیج کو ایک 'علاقائی طاقت‘ کے طور پر راسخ کرنا؛ (2) وسطی ایشیا اور اس سے آگے کی مارکیٹوں تک رسائی کیلئے چابہار منصوبے کے تحت پاکستان کو بائی پاس کرنا؛ (3) پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود رہ کر پاکستان میں کراس بارڈر دہشتگردی کرائی جائے ؛ (4) کے پی اور بلوچستان کی سکیورٹی کو سبوتاژ کرنا، تاکہ اس طرح اس خطے میں سی پیک اور چین کے مفادات کو خطرات سے دوچار کیا جائے؛ (5) خود کو چین کا مقابل ظاہر کرنا اور اس خطے میں امریکی اثرورسوخ کا تحفظ کرنا۔ یہ سارے مقاصد، جو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ قابلِ حصول لگتے تھے‘ پچھلے اٹھارہ مہینوں میں تحلیل ہو چکے ہیں۔
چین کا متبادل بن کر وسطی ایشیا تک اپنے تجارتی قدم پھیلانے کا ہندوستان کا خواب چیتھڑوں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ چابہار منصوبے، اور ریلوے کے افغانستان تک ممکنہ روٹ کے بغیر، بھارت وسطی ایشیا اور یورپ سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ ان خطوں کے ساتھ تجارت یا سرمایہ کاری کا ہر راستہ اب پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے۔ متبادل کے طور پر بھارت کو یورپ تک پہنچنے کیلئے افریقہ والا بین الاقوامی سمندری راستہ استعمال کرنا پڑے گا یا وہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے راستے تجارت کا خواب دیکھ سکتا ہے‘ لیکن یہ ایک مہنگا سودا ہوگا۔ یہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس طرح کے کسی بھی منصوبے کو پہلے نئے سرے سے مرتب کرنا پڑے گا‘ پھر متعدد ممالک کی آمادگی حاصل کرنا ہو گی اور یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ اس سارے عمل میں چین سے الجھنے سے بچا جا سکے۔ فی الحال ایسا ہونا ممکن نہیں لگتا۔
پاکستان کیلئے سب سے اہم بات، افغانستان سے امریکہ کے دستبردار ہونے کے بعدبھارت خطے میں اپنا اثرورسوخ کھو دیتا ہے تو اس قابل نہیں رہے گا کہ آسانی سے بلوچستان کے وسیع و عریض علاقے میں دخل اندازی سکے گا۔ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرنے والوں کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے بلوچستان اور کراچی میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس نے چابہار اور افغانستان کو اپنی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا تھا۔ پاکستان کو اس مرحلے پہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اپنی مغربی سرحدوں پر باڑ لگاتے ہوئے، پاکستان کو یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کرنی چاہئے کہ اسے سرحدوں کے پار (افغانستان اور ایران میں) بالقصد ایک حلقہ اپنے حق میں استوار کرنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوکہ ان علاقوں میں بھارتی اثرورسوخ کی باقیات پاکستان کے سٹریٹیجک اہداف کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اس مقصد کیلئے پاکستان کی قیادت کو لازمی طور پر ایک ایسی ٹھوس حکمت عملی تیار کرنی چاہئے جو اپنی نوعیت میں ماورائے سیاست ہو‘ کہ پاکستان کے اندر سیاسی محافظوں میں تبدیلی کو اس طرح کے سٹریٹیجک قومی اہداف میں خلل ڈالنے کے قابل نہیں ہونا چاہئے۔ ہم اپنے خطے میں یادگار واقعات دیکھ رہے ہیں۔ امریکیوں نے بگرام ایئربیس خالی کر دی ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے پیچھے رہ جانے والے خلا کو پُر کرنے میں مدد کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی حکومت کی تشکیل کی کوشش کرنی چاہئے جو '' تزویراتی گہرائی‘‘ کے تاثرات کا اعادہ کرے‘ لیکن پاکستان کو یہ یقینی بنانے کیلئے اپنا تمام اثرورسوخ بروئے کار لانا ہوگا کہ افغان سرزمین اور مغربی سرحد‘ دونوں ہماری داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہ ہوں‘ اور یہ کہ افغانستان میں ایک نئی گریٹ گیم کے شعلے، کسی بھی طرح سے پاکستان کی حدود تک نہ پہنچ پائیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں