"FBC" (space) message & send to 7575

کورونا سے ڈر نہیں لگتا صاحب!

کورونا کی وبا‘ جس طرح سے سب کچھ تلپٹ کیے دے رہی ہے‘ اُس نے تو ترقی یافتہ ممالک کو بھی ہانپنے پر مجبور کردیا ہے۔ ان حالا ت میں بھلا ہماری کیا بساط؟ لیکن بہرحال اس سے بچنے کی اپنی سی کوششیں تو کرتے ہی رہنا چاہیے‘ اسی تناظر میں دنیا ہیڈ آفس میں کام کرنے والوں کے کورونا ٹیسٹ کرائے گئے ‘جن میں ہم بھی شامل تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اپنے سٹاف کی حفاظت کو ہرممکن حد تک یقینی بنایا جائے۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ کسی کو کورونا وائرس لاحق ہوچکا ہو اور وہ دوسروں کی صحت کیلئے بھی خطرہ بنے۔ ٹیسٹ تو ہوگیا‘ لیکن اُس کے بعد تو دنیا ہی گھومنے لگی۔ ٹیسٹ کا رزلٹ آنے تک نیند آنکھوں سے کوسوں دُور رہی۔ یہ ڈر تو تھا ہی کہ خدانخواستہ ٹیسٹ مثبت نہ آجائے؟ لیکن یقین کیجئے کہ اس سے زیادہ خوف کسی اور چیز کا تھا۔ آنکھیں بند کرتے ہی عجیب عجیب سوچیں ذہن میں درآنے لگتیں۔ چشم تصور سے دیکھتا کہ قرنطینہ سینٹر کے نام پر کسی گندی سی جگہ پر کوئی ٹوٹا ہوا بستر لگا ہوا ہے‘ جس پر میں لیٹا ہوا ہوں‘ توجھرجھری سی طاری ہوجاتی۔ سوچتا کہ جب کئی کئی روز تک کوئی ڈاکٹر مجھے نہیں دیکھے گا تو میرا کیا بنے گا؟ بار بار نظروں کے سامنے ‘ قرنطینہ سینٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیوز گھومنے لگتیں۔ وہ ویڈیوز جن میں کوئی اللہ رسول کے واسطے دے کر فریاد کررہا ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی بچا لی جائے۔ ایک ویڈیو نظروں سے گزری تھی‘ جس میں نظر آنے والا کورونا کا مریض میوہسپتال میں زیرعلاج تھا۔وہ مسلسل فریاد کررہا تھا کہ اس کی شوگر پانچ سو سے بڑھ چکی ہے‘ جس کے باعث وہ دومرتبہ بے ہوش ہوچکا۔ پتا نہیں جھوٹ بول رہا تھا یا سچ‘ لیکن وہ یہ بیان کرتا ہوا بھی سنائی دیتا ہے کہ جس دن سے وہ ہسپتال میں آیا‘ اُس دن سے بے یارومددگار ہی پڑا ہوا ہے‘ ایسی ہی دوسری ویڈیوز میں مریضوں کو اشک بار آنکھوں سے اپنی آپ بیتیاں بیان کرتے ہوئے دیکھ اور سن چکا تھا‘ ایک خاتون کی ویڈیو بھی دیکھنے کو ملی‘ جس میں وہ ایک سیب ہاتھ میں پکڑے اپنی کہانی بیان کررہی ہوتی ہے۔ اُس خاتون کا کہنا تھا کہ اُس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اُسے ہنگامی بنیادوں پر گھر سے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ خاتون کے مطابق ‘وہ روزے سے تھی اور گھر سے چلتے ہوئے‘ اس نے احتیاطاً ایک سیب اُٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لیا اور افطاری کے وقت یہی سیب اُس کے کام آیا ۔ خاتون نے وارڈ کی جو تصویرکشی کی ‘ اُس کا تصور کرکے ہی تھرتھر کانپتارہا۔
شاید ایسی ویڈیوز میں کچھ مبالغہ آرائی بھی ہو تی ہو‘ لیکن جس تواتر کے ساتھ یہ سامنے آرہی ہیں ‘ اُسے نظرانداز بھی تو نہیں کیا جاسکتا ۔ سب سے زیادہ ویڈیوز لاہور کے ایکسپو سینٹر میں قائم قرنطینہ سینٹر کے بارے میں دیکھنے کو ملیں‘ وہاں موجود مریض تو دو‘ تین مرتبہ احتجاج بھی کرچکے ہیں ‘جس دوران وہاں توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔ میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو اسد اسلم اس قرنطینہ سینٹر کے انچارج ہیں۔ اب اُن کا تو یہی کہنا ہے کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی چل رہا ہے۔ خیر اگر ایسا ہے تو پھر معلوم نہیں ‘کیونکر مریض اپنی کہانیاں سناتے ہوئے زاروقطار روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔شاید کورونا اُن کے دماغ پر بھی اثرانداز ہوتا ہوگا‘ جو وہ بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں‘ ورنہ حکومت کے مطابق کورونا سے نمٹنے اور مریضوں کا علاج کرنے کیلئے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ سوچ بھی ذہن میں آتی کہ حکومت کے تو ویسے ہی ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں‘ ہمیں تو اپنا انتظام خود ہی کرنا چاہیے‘ اسی تناظر میں یہ منصوبہ بندی بھی شروع کردی کہ خدانخواستہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں ‘ ایکسپو سینٹر میں جانے سے کیسے بچا جائے‘ اس کے لیے کچھ کرمفرماؤں سے بات بھی کرلی تھی‘ اُن کی طرف سے مدد کا بھرپور یقین دلایا گیا تو کچھ جان میں جان آئی۔ ملک کے دیگر شہروں میںقائم مختلف قرنطینہ سینٹرز کے بارے میں اس سے پہلے بھی متعدد ویڈیوز دیکھنے کا موقع مل چکا تھا۔انہیں دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ ہم کورونا سے کس طرح نمٹیں گے؟
سب سے پہلے تو پاک ایران سرحد پر قائم سینٹر کی حالت ِزار نے ذہن پر ہتھوڑے برسائے تھے۔ اُس کے بعد پنجاب کے ڈیرہ غازی خان میں قائم سب سے بڑے قرنطینہ سینٹر کی کہانیاں زبان زد خاص و عام ہوئیں۔ایسی ویڈیو ز بھی سامنے آئیں کہ سینٹر میں سب بھیڑ بکریوں کی طرح بھرے ہوئے ہیں۔اس بات کا دھیان بھی کہاں رکھا گیا تھا کہ جو مریض نہیں ہیں کہیں وہ بھی اس مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں۔بس‘ یہ سب کچھ ذہن میں چل رہا تھا۔ اس تکلیف دہ صورت ِحال سے کوئی 48گھنٹوں بعد نجات ملی ‘جب پتا چلا کہ اللہ کے فضل سے رپورٹ منفی آئی ہے‘ پھر جس جس دوست کی رپورٹ منفی آتی گئی تو اُس کا اندازہ اُس کے چہرے سے ہی ہوتا گیا۔ 
ہم سے تو یہ مصیبت دور ہی رہی‘ لیکن اُس کے بعد بھی بار بار یہی خیال آتا رہا کہ آخر ہمارے یہاں پر کوروناسے نمٹنے کے نام پر ہوکیا رہا ہے؟ سچی بات ہے کہ ہم صورت ِحال کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہے۔ حکومتوں کی بات کی جائے توہمیشہ کی طرح اس مشکل وقت میں بھی ہمارے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ سو ڈنڈے تو کھانے ہی کھانے ہیں‘ اس کے ساتھ سو گنڈے(پیاز)کھانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وفاق کا منہ مشرق کی طرف ہے تو سندھ مغرب کی طرف منہ کیے کھڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر شدید لفظی گولہ باری کا سلسلہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بدقسمتی ہی قرار دی جاسکتی ہے کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے ہم وفاق اور صوبوں کی سطح پر کوئی ایک پالیسی تک نہیں بنا سکے۔ بس دفعہ دور ‘ پیچھے ہٹ کورونا جیسی باتوں سے ہی اس مرض کو بھگانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ضروری ہے۔ کبھی یہ منطق سامنے آتی ہے کہ کورونا سے اتنے لوگ نہیں مریں گے‘ جتنے لاک ڈاؤن کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن ضروری تھا تو پھر دوسری ہی سانس میں اس کا الزام اشرافیہ پر دھر دیا جاتا ہے۔اب‘ حکومت کی طرف سے یہ بتایا جارہا ہے کہ آنے والے چند ہفتے کورونا کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ شہریوں کو کسی بھی صورت احتیاطی تدابیر ترک نہیں کرنی چاہئیں وغیرہ وغیرہ۔اب‘ یہ سب کچھ بتایا کچھ اِس انداز میں جاتا ہے کہ جیسے کوئی کھلی کچہری منعقد کی جارہی ہو۔ سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی تلقین کرنے والے خود ہجوم میں گھرے کھڑے ہوتے ہیں تو پھر عوام پر بھلا ان باتوں کا کیا اثر ہو؟ ویسے بھی سچی بات تو یہ ہے کہ اس وقت عوامی سطح پر کورونا سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ بھوک کے بڑھتے ہوئے عفریت سے کیسے نمٹا جائے؟ دوسری طرف انتظامات کی حالت دیکھ کر یہی پکاریں اُٹھ رہی ہیں کہ کورونا وائرس سے ڈر نہیں لگتا صاحب!ڈرنے کی وجوہات کچھ اور بھی ہیں۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں