نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی ہدایت ہےعید میلادالنبیؐ شایان شان اندازمیں منایاجائے،شیخ رشید
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

افغانستان کا چاک چکر

لیل و نہار کی اتنی تیز رفتار گردش کہ عقل دنگ رہ جائے، علم جواب دے جائے اور سب کے سب اندازے دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ 20سال کا طویل عرصہ اور دوکھرب ڈالر سے زائد کی رقم لیکن وقت کا پہیہ اک مرتبہ پھر وہیں آن پہنچا ہے جہاں سے 20سال پہلے گردش میں آیا تھا۔ قطع نظر اِس کے کون صحیح اور کون غلط‘ افغانستان میں سامنے آنے والی اِس گردش کا بوجھ اب امریکا کی آنے والی آئندہ کئی نسلوں کو اُٹھانا پڑے گا۔ 2848 امریکی فوجیوں اور 4 ہزار کے قریب امریکی ٹھیکیداروں کی جانوں کی قربانی بھی دینا پڑی۔ امریکا کے علاوہ نیٹوممالک کے 1 ہزارسے زائد اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 66 ہزار افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اِس گردش میں وہ بھی خوب بے نقاب ہوئے جو خود کو بہت سے شعبوں کا ماہر گردانتے تھے۔ خصوصاً اُنہوں نے اپنے بارے میں یہ مضبوط تاثر پیدا کررکھا تھا کہ وہ ناکام ریاستوں کو ڈھب پر لانے کے ماہر ہیں۔ اِس دعوے کی بنیاداُن کے افغان صدر منتخب ہونے سے پہلے کے کیریئرکو بنایا گیا تھا۔ اشرف غنی اِنہیں دعووں کے ساتھ افغانستان کے صدر بنے تھے کہ وہ اپنے ملک کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کردیں گے۔ موصوف اکثر قرار دیا کرتے تھے کہ اُن کے ملک کا اصل مسئلہ بد عنوانی ہے جسے ختم کرنا اُن کی اولین ترجیح ہوگی۔ صدر بنے تو خود بھی اِسی رنگ میں رنگے گئے۔ بدعنوانی ختم یا کم ہونے کے بجائے اِ س میں مزید اضافہ ہوا۔ وہ وقت بھی آیا جب اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے اُنہوں نے رشید دوستم جیسی بدنام زمانہ شخصیت کو اپنا نائب مقرر کردیا۔ دوستم پر صرف بدعنوانی کے ہی نہیں بلکہ جنسی استحصال کے بھی بے شمار الزاما ت ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق 20سالوں کے دوران افغانستان میں اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالر خرچ کیے گئے لیکن اِن میں سے بیشتر بدعنوانوں افغان حکمرانوں اور وار لارڈز کی جیبو ں میں گئے۔ ۔ یہی وجہ رہی کہ جب فوج کے امتحان کا وقت آیا تو اُس نے اپنے بڑوں کی کرپشن کا تحفظ کرنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے میں عافیت جانی۔ ظاہری سی بات ہے کہ سپاہی وطن کے لیے لڑتا ہے یا پھرنظریے کے لیے‘ جب دونوں ہی عناصر دستیاب نہ ہوں تو پھر کس مقصد کے لیے لڑا جائے۔
یہ بنیادی وجوہات رہیں کہ اتحادی افواج کے افغانستان سے نکلنے کی دیر تھی کہ افغان سکیورٹی فورسزنے بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھر نے میں دیر نہیں لگائی۔ یہ اندازہ تو سبھی کو تھا کہ اتحادی افواج کے نکلنے کے بعد جلد یا بدیر‘ کابل طالبان کے قدموں میں آن گرے گا لیکن اتنی جلدی؟یہ تو شایدافغان حکومت اور اُس کے غیرملکی دوستوں کے علاوہ خود طالبان نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ چند روز پہلے ہی امریکا کے ایک تھنک ٹینک کی طرف سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ طالبان کو کابل حاصل کرنے میں نوے دن درکار ہوں گے۔ جب طالبان شہر پر شہر فتح کرتے چلے جارہے تھے تو تب افغان حکومت کی طرف سے اِسے فوجی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ طے شدہ فوجی حکمت عملی کے تحت مختلف شہر خالی کیے جارہے ہیں لیکن جلد ہی طالبان کو پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔ طالبان کو تو پیچھے کیا دھکیلنا تھا‘ افغان صدر نے خود ہی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیرونِ ملک فرار ہونے میں عافیت جانی۔بدعنوانی کے متعدد الزامات کا سامنا کرنے والے اُن کے نائب رشید دوستم بھی بیرونِ ملک فرار ہوچکے ہیں۔ موصوف کی تصاویر ملاحظہ کریں تو اُن کی چھاتی پر تمغوں کی ایک طویل قطار دکھائی دیتی ہے۔ وردی پر اتنے زیادہ تمغے اور میدان کی کارکردگی دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ یہ شخص کرپشن کے علاوہ انسانی حقوق کی پامالی کا بھی بڑا مجرم سمجھا جاتا ہے۔ مزار شریف میں اُس کے محل پر طالبان کے قبضے کے بعد جو اندرونی تصاویر سامنے آئی ہیں‘ معلوم نہیں کہ یہ شان و شوکت دیکھ کر کتنی آنکھیں پھٹ چکی ہوں گی۔ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اِس انتہائی غریب ملک میں حکمرانوں کے یہ ٹھاٹ ہوں گے۔ اب یہ افراد خود تو یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیرونِ ملک فرار ہو چکے ہیں مگر جو کچھ افغانستان کے اندر بنایا تھا، وہ یہیں رہ گیا ہے؛ البتہ کوئی نہیں جانتا کہ فرار ہونے سے پہلے اِنہوں نے کتنی دولت بیرونِ ملک منتقل کی۔ یہ تو صرف دیگ کے دودانے ہیں ورنہ تو پوری کی پوری دیگ کی حالت یہی ہے۔ اب جو اُن عوامل کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ آخر کیوں افغان فورسز نے معمولی سی مزاحمت بھی نہیں کی‘ اِس تناظر میں تاریخ کا ایک بھولا بسرا باب یاد آرہا ہے۔
فروری 1258ء منگول آندھی کو بغداد کا محاصرہ کیے تقریباً تیرہ دن گزر چکے تھے۔ بظاہر بہت مضبوط دکھائی دینے والی عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کی فوج مٹی کا ڈھیر دکھائی دے رہی تھی۔ بغداد کے محصورین کی ہرممکن کوشش تھی کہ کسی طرح حملہ آوروں سے صلح ہوجائے لیکن بات نہ بن سکی۔ 10فروری 1258ء کو مزاحمت دم توڑ گئی اور منگول افواج شہر کے اندر داخل ہوگئیں۔ منگولوں نے بغداد کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اُن کے اسلاف مختلف شہروں کے ساتھ کرتے آئے تھے۔ شہر اور شہریوں کے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا‘ خود خلیفہ کو بھی قیدی بنا لیا گیا تھا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق چند روز تک بادشاہ کو بھوکا رکھنے کے بعد ہلاکو خان کے سامنے پیش کیا گیا۔ دربار وہی تھا جہاں چند روز پہلے تک خلیفہ مستعصم باللہ اپنے شاندار تحت پر بیٹھ کر حکومت کیا کرتا تھا لیکن اب وقت بدل چکا تھا۔ تخت پر ہلاکوخان براجمان تھا اور خلیفہ اُس کے سامنے قیدی کی حیثیت سے کھڑا تھا۔ خلیفہ کو اب بھی یہ توقع تھی کہ ہلاکو خان اُس کی جان بخشی کردے گا لیکن اُس نے تو کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ ہلاکو خان کو معلوم تھا کہ خلیفہ کئی روز سے بھوکا ہے چنانچہ اُس کی حکم پر رومال سے ڈھکا ہوا ایک خوان لایا گیا۔ خلیفہ کی بھوک پوری طرح سے چمک رہی تھی جس نے بہت بے تابی سے رومال اُٹھایا تو تھال میں ہیرے جواہرت پڑے ہوئے تھے۔ ہلاکو نے خلیفہ کو حکم دیا کہ سونے جواہرات کے اِس ڈھیر کو کھاؤ۔ معزول خلیفہ نے حیرت سے جواب دیا کہ وہ کیسے اِنہیں کھا سکتا ہے۔ اِس پر ہلاکو خان نے جواب دیا کہ بے وقوف انسان جب اِن کو کھا نہیں سکتا تو اِنہیں جمع کیوں کیا تھا؟ اگر تم نے اپنی یہ دولت اپنی فوج پر لگائی ہوتی تو آج تمہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اگر تم نے اپنا خزانہ بھرنے کے بجائے اپنی فوج کو مضبوط بنایا ہوتا تو آج تم قیدی کی حیثیت سے میرے سامنے موجود نہ ہوتے۔
کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اِس کا کلائمیکس ابھی باقی ہے۔ ہلاکونے خلیفہ کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا انوکھا طریقہ سوچا، اُس کے حکم پر خلیفہ کو نمدوں میں لپیٹ کر اُس پر گھوڑے دوڑائے گئے اور یوں زمین پر اُس کے خون کا ایک بھی قطرہ بہائے بغیر اُس کی جان لے لی گئی۔ ہلاکوخان نے تب اِس حقیقت کو پوری طرح سے آشکار کردیا تھا کہ اگر ممالک کی افواج مضبوط ہوں تو تب ہی وہ اپنے فرائض اچھے انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔ آج جب افغان فوج کی تیز رفتار شکست کے مختلف اندازے لگائے جارہے ہیں تو یہ بات بہرحال ضرور ثابت ہوگئی کہ افغان حکمرانوں نے اپنی سکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنے خزانے بھرے پر توجہ مرکوز رکھی تھی۔ اب افغان اشرافیہ اپنے ملک کو افراتفری کی حالت میں چھوڑ کر بیرونی ممالک میں فرار ہوچکی ہے۔ اشرف غنی اور رشید دوستم وغیرہ اِس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ وہ نجیب اللہ جیسے انجام سے بچ گئے۔ رہی بات عام افغانوں کی‘ تو نامساعد حالات تو جیسے اِن کی قسمت بن کر رہ گئے ہیں۔ چار دہائیاں ہونے کو آئی ہیں کہ اُنہیں امن کا ایک لمحہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ اللہ کرے کہ اب ہی اُنہیں امن میسر آجائے، گو کہ افغانستان میں ہنوز افراتفری دیکھنے میں آرہی ہے لیکن طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کو اچھی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اُمید تویہی ہے کہ اب کے طالبان ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں