نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- منصوبےکےپہلےمرحلےمیں ہاکی،کرکٹ اورفٹبال سمیت 12کھیل شامل
  • بریکنگ :- 11سے25سال کےنوجوانوں بشمول خواتین کےلیےکھیلوں کےمقابلےمنعقد ہوں گے
  • بریکنگ :- کھیلوں کےسب سےبڑے پروگرام کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکاآج افتتاح ہوگا
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان آج کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکاآغازکریں گے
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

بس ایک گمان سا ہے

ایک صاحب وزیرصحت کے عہدہ پر فائز ہوتے ہیں ۔آتے ہی وہ سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اپنی من پسند شخصیت کو ڈریپ کے چیئرمین کا عہدہ دے دیتے ہیں۔پھر ادویات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ عوام الناس دہائیاں دیتے ہیں کہ ادویات کی قیمتوں میں بے محابہ اضافے سے زندگی اور موت کے درمیان موجود کمزور سی ڈور بھی کٹ جائے گی۔اسی چیخ وپکار کے درمیان وزیرموصوف کی طرف سے وزیراعظم صاحب کو بتایا جاتا ہے کہ ایسے ہی شور مچا رہے ہیں ادویات کی قیمتوں میں یہی کوئی 15سے 20فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت تب تک 890ادویات کی قیمتو ں میں پچاس سے ایک سو پچاس فیصد تک اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ اسی شوروغل کے دوران یہ شور بھی اُٹھنا شروع ہوجاتا ہے کہ محکمہ صحت میں من پسند افراد کو بھی خوب نوازا جارہا ہے۔ آوازیں زیادہ بلند ہوتی ہیں تو مبینہ بدعنوانیوں کی ایک فائل بن کر وزیراعظم صاحب کی میز پر پہنچتی ہے۔ غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کچھ تو دال میں کالا ہے۔ نتیجہ اخذ کرلیے جانے کے بعد وزیرصاحب کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے ۔ اُمید تھی کہ اگر اُنہیں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے تو پھر اُن سے کچھ نہ کچھ وصول بھی کرلیا جائے گا۔ ایسا تو کچھ نہ ہوا البتہ ایک دوسرا چمتکار ضرور دکھایا گیا کہ وزارت سے ہٹانے کے بعد اُنہیں تحریک انصاف میں اہم عہدہ دے دیا گیا ۔ ان صاحب کے جانے کے بعد ظفر مرزا صاحب وزارت صحت کے عہدے پر فائز کیے جاتے ہیں۔ اُن دنوں کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی جس کی بابت تازہ ترین صورتحال بتانے کے لیے موصوف ہرصبح اپنا قیمتی وقت قوم کو دیا کرتے تھے۔اُن کے خلاف ماسک سمگل کرنے کے الزام میں تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی دوران اُنہیں کورونا وائرس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ''غیرذمہ دارانہ طرز عمل ‘‘اختیار کرنے اور حکومت کا موقف موثر طریقے سے پیش نہ کرنے پر سرزنش کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔بعد میں وہ خود ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں جس کے بعد سے آج تک یہ معلوم نہیں پڑا کہ قصور واروں کوسزا مل سکی تھی؟اسی طرح مختلف حوالوں سے پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ‘ وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور نورالحق قادری‘ وزیرہوابازی غلام سرور خان ‘ زلفی بخاری ‘جہانگیر ترین اور کچھ دوسرے ذمہ داران کے خلاف بھی تحقیقات کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ ایک دوصاحبان کے خلاف ہونے والی انویسٹی گیشن کے نتائج بھی سامنے لائے گئے لیکن بات یہیں تک محدود رہی۔
ان حالات میں بس گمان سا ہے کہ اس مرتبہ قائم کیے گئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی سیل سے ضرور کچھ نہ کچھ برآمد ہوگا ۔ پنڈورا پیپرز کے حوالے سے نہ صرف صاف و شفاف تحقیقات ہوں گی بلکہ قصورواروں کو قرارواقعی سزائیں بھی ملیں گی۔ جنہوں نے بھی غیرقانونی آف شور کمپنیاں بنائیں اور پھر کالے دھن کو دوسرے ممالک میں بھیجا‘ اس مرتبہ وہ کرپشن کے خلاف حکومت کے غیرمتزلزل عزم اور قانون کے آہنی ہاتھ‘سے نہیں بچ سکیں گے۔ اگر کوئی بھی کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اُسے ہرصورت اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہو گی۔ طریقہ کار یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر تو کسی پبلک آفس ہولڈرکا آف شور اثاثہ گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا گیا ہوگا تواُس کا کیس سیدھا نیب کو بھیجا جائے گا۔ منی لانڈرنگ کی صورت میں معاملہ ایف آئی اے کے پا س جائے گا۔ تیسری کیٹیگری یہ طے کی گئی ہے کہ آف شور کمپنی کا جو مالک پبلک آفس ہولڈر نہیں ہوگا تو اُس کا کیس ایف بی آر کے پاس جائے گا۔ تیزرفتاری کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے تمام اداروں کو متحرک ہونے کا حکم دیا جاچکا ہے ‘بلکہ حکومتی شخصیات کے مطابق تو ادارے پوری طرح سے ‘اُٹھک بیٹھک‘ میں مصروف بھی ہوچکے ہیں۔ہاں اس تمام تر کارروائی میں ادارہ برائے انسداد رشوت ستانی کی معاونت بھی شامل حال رہے گی۔
اب جو یکایک اتنی تیزی سے کارروائی کاآغاز ہوچکاہے تو اچھے نتائج کی توقع نہ رکھنا کوئی مناسب بات نہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ تحقیقات کے کھیل سے ہم اتنی بار ڈسے جاچکے ہیں کہ اب ایسی کسی بات پر مشکل سے ہی یقین آتا ہے۔ اگر پہلے سامنے آنے والے سکینڈلز پر ہونے والی تحقیقات کے کوئی اچھے نتائج سامنے آئے ہوتے تو یقینا اس مرتبہ بھی قوم کو پورا یقین ہوتا کہ حکومت کچھ کرکے ہی رہے گی۔ بات یہ ہے کہ جولائی 2018ء میں انتخابات جیت کر برسراقتدار آنے والی تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی نقطہ ہی ملک سے کرپشن کا خاتمہ تھا۔تحریک انصاف کے منشور میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ نیب کو خود مختار ادارہ بنا کر بدعنوان عناصر کا پیچھا کیا جائے گا۔(یہ الگ بات کہ نیب آرڈیننس کی آڑ میں کوئی دوسرا ہی کھیل کھیلا جاچکا ہے‘ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ جو حضرت عمر فاروق ؓکے دور کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے‘ اُنہوں نے خود کو ہرقسم کی جوابدہی سے محفوظ بنا لیا ہے)۔ اس سے پہلے 2016ء میں پانامہ لیکس میں تب کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام آنے پر آسمان سر پر اُٹھا لیا گیا تھا۔ آج کے وزیراعظم تب خود سپریم کورٹ میں گئے۔ اس کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنی جس کے سامنے نواز شریف کے بچوں کی پیشیاں بھی ہوتی رہیں۔ اُمید تو یہی تھی کہ اس مرتبہ اپنے ساتھیوں کے نام سامنے آنے پر بھی ویسا ہی جوش اور جذبہ دکھایا جائے گا۔ دیکھا جائے تو پہلے مرحلے پر یہ اُمید پوری نہیں ہوسکی کیوں کہ اپنی ہی قائم کردہ ایک کمیٹی کو فریضہ سونپ دیا گیا ہے کہ بھائی تحقیقات کرو اور قصور واروں کی نشاندہی کرو۔ مطلب یہ کہ جنہیں حکومت نے نامزد کیا ہے‘ وہی تحقیقات بھی کررہے ہیں جن کی تحقیقات کے نتیجے کا اندازہ لگایا جانا کوئی راکٹ سائنس ہرگز نہیں ہے۔اصل بات تو یہ بھی ہے کہ صرف تحقیقات کرلینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ یہ سب توچینی سکینڈل میں جہانگیر ترین صاحب کے خلاف بھی ہوا تھا ۔ کیا نتیجہ نکلا؟صرف یہ کہ نتائج کو عوام کے سامنے لاکر خوب شور مچایا گیا کہ دیکھیں ہم نے سب کچھ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔ حد ہوگئی ہے کہ جب کسی سے حاصل وصول ہی کچھ نہیں کرنا تو تحقیقات کا کیا فائدہ ؟ اپنے جتنے بھی ساتھیوں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت تحقیقات کی گئیں‘ اُن میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی جاسکی۔ صرف اتنا کیا گیا کہ اُنہیں اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
ان حالات میں یہ اُمید تو رکھی جاسکتی ہے کہ نئے تحقیقاتی عمل کے دوران ماضی کی روایات کو نہیں دہرایا جائے گا لیکن اس پر فی الحال یقین کیا جانا مشکل ہے۔اگر بدعنوانیوں میں ملوث کچھ اپنے ساتھیوں کو بھی''ٹف ٹائم‘‘دیا گیا ہوتا تو پھر یقین کیا جاسکتا تھا کہ اب کی مرتبہ بھی کسی قصور وار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ اُنہیں بھی نہیں جومخالفین کو تو ریاست دشمن قرار دینے میں ایک پل کا توقف بھی نہیں کرتے لیکن اُن سے کوئی سوال کیا جائے تو ماتھے پر شکنیں آجاتی ہیں۔ ایسے کم از کم چھ احباب اور اُن کے بچوں کے نام پنڈورا پیپرز میں سامنے آچکے ہیں لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ اب کی بار بھی اگر کوئی تھوڑا بہت نزلہ گرے گا تو اُس کا نشانہ مخالفین ہی بنیں گے کہ ہماری ہمیشہ سے یہی روایت رہی ہے۔ خیر بقول شخصے حالات اچھے نہ ہوں تو بھی اُمید اچھے کی ہی رکھنی چاہیے ۔ اسی کے مصداق دل کو تسلی دینے کے لیے ہم بھی یہ توقع باندھ لیتے ہیں کہ کم از کم اس معاملے میں تو حکومت اپنے کہے کا پاس رکھے گی۔ ویسے اس کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ مہنگائی کے ایشو پر سے عوامی توجہ قدرے ہٹ گئی ہے۔وہ ایک توشہ خانے والا مسئلہ بھی حکومت کے لیے دردسر بنا ہوا تھا‘ اب اُس بھی کسی حد تک جان چھوٹ گئی ہے۔ باقی رہی تحقیقات کی بات تو معاملات آپ سب کے سامنے ہیں پھر بھی ایک گمان سا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں