نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کھیلوں کےسب سےبڑے پروگرام کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکاآج افتتاح ہوگا
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان آج کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکاآغازکریں گے
  • بریکنگ :- منصوبےکےپہلےمرحلےمیں ہاکی،کرکٹ اورفٹبال سمیت 12کھیل شامل
  • بریکنگ :- 11سے25سال کےنوجوانوں بشمول خواتین کےلیےکھیلوں کےمقابلےمنعقد ہوں گے
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

ایٹمی پروگرام، بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیرخان

ملک کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھٹو کے بعد‘ غیروں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی رخصت ہوگئے۔ قصور دونوں کا ایک ہی تھا۔ ایک کو تختۂ دار پرچڑھا دیا گیا اور دوسرا اپنی وفات تک نظربندی و قید کی سی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا۔ اِن دونوں میں سے ایک نے ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو دوسرے نے اِسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ پہلااِس لحاظ سے بھی بدقسمت رہا کہ اُس کے جنازے میں خاندان کے چند افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی اور رات کے اندھیرے میں ایک آمر کے ہاتھوں اپنی زندگی گنوا نے والے کو حکومتی نگرانی میں دفنا یا گیا۔ تب کے امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے دھمکی تو پہلے سے مل چکی تھی کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں تمہیں عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ یہ دھمکی تو سات سمندر پار سے آئی تھی لیکن اِس پر عمل کرنے میں ہمیشہ کی طرح اپنے ہی پیش پیش رہے۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کہانی کا المیہ 18مارچ 1978ء کو شروع ہوا تھا جب نواب محمد احمد کے قتل کے جرم میں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ یوں اپنے وقت کا طاقتور ترین وزیراعظم قیدی نمبر1772بن گیا۔ لاہور سے پنڈی جیل میں منتقل ہوا تو پھر 323دنوں کے بعد اُس کی میت ہی جیل سے باہر آئی جسے آناً فاناً لاڑکانہ پہنچا کر دفنا بھی دیا گیا۔ خوب اچھی طرح یاد ہے کہ تب ہم نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو بازاروں میں دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ واحد ایسا سیاسی رہنما ٹھہرا جس کی پھانسی پر کئی کارکنوں نے خود کو آگ لگا کر احتجاج کیا۔ بھٹو صاحب کو زعم تھا کہ اُن کی وفات پر ہمالیہ روئے گا لیکن آمر کے جبر کے سامنے اس وقت ہمالیہ بھی سرنگوں ہوگیا۔ اندھیری رات کے اِس جبر نے سب کو گھروں میں ہی دبکے رہنے پر مجبور کردیا تھا لیکن دیکھا جائے تو موت آج تک بھٹو کو مار نہیں سکی۔ بھٹو کے نام کے سبب ہی پیپلزپارٹی آج بھی ملک کی اہم سیاسی قوت ہے۔ اگرچہ بھٹو اور بی بی کے جانشینوں نے اِس کی بربادی کا کافی سامان کردیا ہے لیکن پھر بھی اِس سیاسی قوت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ بھٹو کے بعد ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سب سے اہم کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا رہا۔ جو کچھ اُ ن کے ساتھ ہوا‘ اب وہ بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے‘ ملک کا ایٹمی پروگرام اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا نام ایک دوسرے میں پیوست ہو چکے ہیں۔ یہ الگ بات کہ جب ایٹمی دھماکوں کا وقت آیا تو اُنہیں عملاً اِس پروگرام سے الگ کردیا گیا تھا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب اُن کے ساتھ یہ بے حسی والا رویہ اختیار کیا گیا ہوگا‘ تب اُن کی ذہنی حالت کیا رہی ہوگی۔اُنہیں تو یہ علم بھی نہیں ہوگا کہ آنے والا وقت اُن کے لیے مزید مشکل ثابت ہونے والا ہے مگر ایسا ہو کر رہا۔ ایک آمر نے بھٹو کوتختہ دار تک پہنچایا تھا تو دوسرے آمر نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔
پرویز مشرف کے دور میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں کچھ ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی خبریں سامنے آئیں۔ اِس الزا م پر 31 جنوری 2004ء کو ڈاکٹر خان کو گرفتار کرلیا گیا اور پھر اُنہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ٹی وی پر آکر معافی مانگیں اور اپنا جرم قبول کریں کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں وہ ملوث رہے ہیں۔ 4 فروری 2004ء کو محسنِ پاکستان قرار دیے جانے والے ڈاکٹر قدیر ٹی وی پر آکر سرعام سب سے معافی کے خواستگار ہوئے اور اِس حوالے سے اداروں اور حکومت کو یکسر بری الذمہ قرار دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونی ممالک میں بھی تجزیہ کاروں نے اِس تمام پریکٹس کو یکسر مسترد کردیا۔ 4 فروری کو ڈاکٹر خان ٹی وی پر آکر معافی مانگتے ہیں اور اگلے ہی روز پرویز مشرف کی طرف سے اُن کے لیے معافی کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ معافی تو مل گئی لیکن نظر بندی2009ء تک جاری رہی۔ یقینا اِس دوران وہ ایک بے حس حکومت کے رویوں کے بارے میں ہی سوچ بچار کرتے رہے ہوں گے کہ اُن کی قربانیوں اور خدمات کا یہ صلہ دیا گیا ہے۔ 2009میں نظر بندی تو ختم ہوگئی لیکن ان کی نقل و حرکت کو کافی محدود کر دیا گیا اور ان کی سرگرمیوں پر پوری طرح سے نظر رکھی جاتی تھی۔ چند مواقع پر تو مجھے خود بھی اِس ساری صورتحال کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
ملک کو ناقابلِ تسخیر قوت بنا دینے والا قوم کا یہ محسن اب منوں مٹی تلے سوچکا ہے۔ پوری قوم اُن کی جدائی پر سوگوار دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں اُن کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرکے قوم نے اُن سے اپنی محبت کا اظہار کیاہے۔ اِس کی وجہ اِس کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ جن کی جڑیں عوام کے اندر ہوتی ہیں‘ عوام اُن سے اِسی طرح محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں ہمارے ملک کی آبادی کا بڑا حصہ آج بھی بھٹو کا مداح ہے تو دوسری جانب عوام ڈاکٹر قدیر کو بھی بے پناہ چاہتے تھے۔ بلاشبہ ملک کے ایٹمی پروگرام کومکمل کرنے میں بے شمار اداروں ا ور دوسری شخصیات نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ اِس حوالے سے مرحوم غلام اسحاق خان کا تذکرہ نہ کیا جانا زیادتی ہوگی۔ خود ڈاکٹر عبدالقدیر نے کئی مواقع پر یہ کہہ کر غلام اسحاق خان کے کردار کی تحسین کی کہ اُنہوں نے اپنے دور میں کسی بھی موقع پر وسائل کی کمی نہیں آنے دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے غلام اسحاق خان کے لیے اپنے اچھے جذبات کو کبھی نہیں چھپایا۔ ظاہری بات ہے کہ اتنا بڑا منصوبہ متعدد اداروں اور شخصیات کے بغیر کیونکر کامیاب ہو سکتا تھا لیکن جب بھی ایٹمی پروگرام کا نام آتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلے ڈاکٹر قدیر کا نام ہی اُبھرتا ہے۔ اِسی تناظر میں مغربی ممالک کی طرف سے بھی اُن کے خلاف ہمیشہ سازشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک موقع پر خود ڈاکٹر عبدالقدیر مرحوم نے کہا تھا،،وہ مجھے ناپسند کرتے ہیں اور مجھ پر بے بنیاد الزامات لگانے کا عمل جاری رکھتے ہیں،میں جانتا ہوں کہ وہ یہ سب کچھ اِس لیے کرتے ہیں کہ میں نے اُن کے سٹریٹیجک منصوبوں کو خراب کردیا ہے۔اب اُن پر جو بھی الزامات لگے‘ وہ کس حد تک درست تھے یہ ایک الگ بحث ہے لیکن ملک کے اندر اُنہیں بہرحال مرتے دم تک عوامی سطح پر قومی ہیرو کا درجہ حاصل رہا۔
افسوس اِس بات کا ضرور رہے گا کہ موجودہ حکومت نے اُن کی وفات پر جو رویہ اختیار کیا، وہ کسی طور بھی قابلِ تحسین قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بیماری کے ایام میں بھی کسی اہم شخصیت نے اُن کی تیمار داری کی زحمت گوارا نہیں کی تھی جس کا اُنہیں شدید قلق رہا۔ کئی مواقع پر اُنہوں نے اِس بات کا گلہ بھی کیا کہ کسی کو یہ توفیق بھی نہیں ہوئی کہ وہ ہسپتال آکر اُن کی خیریت ہی دریافت کرلیتا۔ اُن کی وفات پر بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی کہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا افسوس صرف ایک بیان کی حد تک ہی رہا۔ مراد علی شاہ کے علاوہ‘ باقی وزرائے اعلیٰ بھی دیگر 'اہم ترین‘ مصروفیات میں اُلجھے رہے۔ اُنہوں نے بھی صرف تعزیتی بیانات جاری کرنے پرہی اکتفا کیا۔ معلوم نہیں اُنہیں کس کا خوف لاحق تھا کہ وہ بیماری کے دنوں میں اُن کی عیادت کو گئے نہ ان کے جنازے میں شرکت کرسکے۔ اپنے محسنوں سے ایسے سلوک کی توقع بھی صرف ہمارے سیاسی رہنماؤں سے ہی کی جاسکتی ہے۔ اِن کے بس میں ہو تو شاید یہ عوام کے دلوں سے بھی محسنِ پاکستان کی محبت کو کھرچ ڈالیں۔ یہ الگ بات کہ جس طرح ایٹمی پروگرام سے جڑے ہوئے بھٹو کے نام کو الگ نہیں کیا جاسکتا،ا ُسی طرح ملک کے ناقابلِ تسخیر دفاع کے ضامن اِس پروگرام سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام بھی ہمیشہ جڑا رہے گا۔ اگرچہ دونوں ہی اپنے اپنے وقت کے حکمرانوں کے جبر کا شکار رہے۔ اِس کے باوجود عوام میں انہی کی مقبولیت برقرار رہے گی کہ جن کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں اُن کے نام کو مٹانا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں