نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:ضلع جنوبی کے3سب ڈویژن میں مائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ
  • بریکنگ :- گارڈن،صدراورسول لائنزکےمخصوص مقامات پرمائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن
  • بریکنگ :- گارڈن سب ڈویژن میں عیدگاہ لین،گلی نمبر8سے11تک مائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن
  • بریکنگ :- تین سب ڈویژن میں کوروناکیسزکےخاتمےتک لاک ڈاؤن نافذرہےگا
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن کےدوران 3اوراس سےزائدافرادکےجمع ہونےپرپابندی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن کےدوران شہریوں کےغیرضروری نکلنےپرپابندی ہوگی
  • بریکنگ :- کراچی:کورونامریض گھروں میں قرنطینہ رہیں گے،نوٹیفکیشن
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

یہ محض رپورٹ نہیں!

امسال 19 فروری کو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 میں ضمنی انتخاب کا انعقاد کیا جاتا ہے، پولنگ کے دوران پورے حلقے میں وہ اُدھم مچتا ہے کہ خدا کی پناہ! فائرنگ کے مختلف واقعات میں دوافراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف پولنگ سٹیشنز کے 20 پریذائیڈنگ افسران نتائج سمیت ''دھند‘‘ میں لاپتا ہو جاتے ہیں۔ لگ بھگ چھ گھنٹوں کے بعد یہ افسران نتائج سمیت آر او کے دفترمیں حاضر ہوتے ہیں۔ پہلے لاپتا ہونے اور پھر منظرِ عام پر آنے والے افسران کی طرف سے مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ تمام صورتِ حال موسم کی خرابی کے باعث پیدا ہوئی۔ حلقے کی تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ اُسے کم از کم 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج پر شبہ ہے لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر نتائج کا اعلان نہیں کیا جاسکتا۔ کمیشن یہ بھی کہتا ہے کہ بظاہر یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ نون کی اُمیدوار نوشین افتخار الیکشن کمیشن کو حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کی درخواست دیتی ہیں۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعداِس درخواست کو منظور کر لیا جاتا ہے اور 18 مارچ کو دوبارہ انتخابات کرانے کااعلان کیا جاتا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے قراردیاجاتاہے کہ 19 فروری کو انتخابات کے دوران لڑائی جھگڑے کے متعدد واقعات پیش آئے اور تشدد ہوا‘ فریقین کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے باعث ماحول خراب ہوا اور ووٹرز کو حقِ رائے دہی کے لیے آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ووٹرز کو ڈرایا اور دھمکایا گیااِس لیے الیکشن ایکٹ کی شق 9 کے تحت 19 فروری کا ضمنی انتخاب برائے ڈسکہ حلقہ این اے 75 کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ کمیشن کی طرف سے فرائض سے غفلت برتنے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا جبکہ کمشنر گوجرانوالہ اور آرپی اوکو گوجرانوالہ ڈویژن سے باہر بھیجنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ حکومت کو ڈویژن، ضلع اور تحصیل کے متعدد دیگر افسران کے خلاف کارروائی کا کہا گیا اور یہ تک کہا گیا کہ آئندہ اِن افسران کو انتخابی فرائض نہ سونپے جائیں۔
اب تصویر کادوسرارخ دیکھئے۔ ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں‘ الیکشن کمیشن کو خودمختار اور آزاد ادارہ بنانے کے دعوے کرنے والوں نے اِس ادارے کے خلاف طوفان اُٹھا دیا۔ سینیٹ انتخابات میں حکومتی اُمیدوار حفیظ شیخ کو شکست ہوئی تو اس تناظر میں محترم وزیراعظم نے 4 مارچ کو قوم سے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کو ہدفِ تنقید بنایا۔ ان کی طرف سے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے خفیہ رائے شماری کراکے مجرموں کو بچا لیا۔ حالانکہ بعد میںجب کم ووٹ ہونے کے باوجودحکومتی اُمیدوار صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے تو حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی اختیارکی گئی۔ معلوم نہیں اِس بارالیکشن کمیشن نے کس کو بچایاتھا۔ اس کے بعد وزرا بھلا کب پیچھے رہنے والے تھے‘ گاہے گاہے وہ بھی تنقید کے نشتر برساتے رہے۔ بہر کیف، این اے 75میں دوبارہ انتخاب ہوا جس میں مسلم لیگ نون کامیاب ہوئی ، لیکن اس کے بعد ایک مرتبہ پھرالیکشن کمیشن کے لتے لینے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور طویل عرصے تک جاری رہا۔ دو وفاقی وزرا تو اِس دوڑ میں کہیں آگے نکل گئے۔ ایک صاحب نے تویہاں تک کہہ دیاکہ ایسے ادارے کو آگ لگادینی چاہیے۔ دوسرے صاحب کی طرف سے الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کا آلۂ کار قرار دیا گیا اور چیف الیکشن کمشنرکوچیلنج کیاگیاکہ اگروہ سیاست کرناچاہتے ہیں تو عہدہ چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔ خیال رہے کہ یہ تنقیدصرف تب تب سننے میں آئی جب کمیشن کے کسی فیصلے سے حکومتی مفادات کو زک پہنچی۔ افسوس کہ سیاسی الزام تراشی میں ایک آئینی ادارے کو تماشا بنا کر رکھ دیا گیا۔ اِس بھی زیادہ افسوس اِس بات پر ہے کہ یہ سب کچھ اُن کی طرف سے کیاجارہاتھاجوآئے ہی ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے نام پرتھے۔ اِن سے کیسی کیسی اُمیدیں وابستہ تھیں لیکن بڑے بڑے دعوے کرنے والوں نے خود ہی اپنے الفاظ کی حرمت کا خیال کرنا چھوڑ دیا۔
خیر‘ این اے 75کے ضمنی انتخاب کاتیسرا رخ ملاحظہ کیجئے۔ پریذائیڈنگ افسران کے ''گم‘‘ ہو جانے کے معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور تمام معاملے کی تحقیقات ہوتی ہیں۔ جب ان تحقیقات کے نتائج سامنے آتے ہیں توسب کے ہوش اُڑجاتے ہیں۔ انکوائری رپورٹ بتاتی ہے کہ پولنگ کے عمل کوسبوتاژ کرنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس میں اجلاس منعقدہوتے رہے جن میں وزیراعلیٰ کی ایک سابق معاونِ خصوصی بھی شریک ہوتی رہیں۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی رہائش گاہ پر بھی اجلاس ہوئے جبکہ متعدد پولیس اور انتظامی اہلکار غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ رپورٹ میں متعدد دیگر افسران کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی۔ بتایاگیا کہ 20 پولنگ سٹیشنوںکے انچارج سرکاری گاڑیوں کے بجائے پرائیویٹ کاروں میں آر او آفس کیلئے روانہ ہوئے اور راستے میںغائب ہوگئے۔ دورانِ تحقیقات کئی ذمہ داران مسلسل جھوٹ بولتے رہے لیکن بالآخراُنہوںنے اعتراف کرلیا کہ وہ آر او آفس کے بجائے ''کسی دوسری جگہ‘‘ پر چلے گئے تھے۔ اِنہیں پہلے پسرور اور پھر سیالکوٹ لے جایا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی طرف انگلیاں اُٹھائی گئی ہیں کہ وہ انتخابی دھاندلی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کے گھر ہونے والی اس میٹنگ میں شریک ہوئیں‘ جس میں مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے دیگر افسران بھی شریک تھے۔بہرحال اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن اور ڈاکٹر صاحبہ کے مابین ہے لیکن ہمیشہ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ دھواں تبھی اُٹھتا ہے جب آگ لگتی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں متعدد ایسے ہوشربا حقائق سے پردہ اُٹھایا گیا ہے جو حکومت کے لیے یقینا شرمندگی کا باعث ہیں۔
اب تصویر کا چوتھا رخ ملاحظہ کیجئے۔ ''مبینہ دھاندلی‘‘ کے تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود حکومتی جماعت الیکشن ہار جاتی ہے، پورے ملک میں جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اورسیٹ بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ معلوم نہیں یہ سب کچھ کرنے والوں نے اپنی جماعت کا کیا بھلا کیا۔ دوبارہ انتخاب سے پہلے تک ٹی وی شوزاور میڈیا ٹاک میں الیکشن کمیشن پر الزامات کی بوچھاڑ جاری رہی۔ انتہائی وثوق اور اعتماد کے ساتھ دھاندلی کے الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا لیکن اب جوکچھ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے‘ اِس پر شرمندگی کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ احسن بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے صرف رپورٹ ہی جاری نہیں کی بلکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یقینا یہ اقدام آئندہ اِس طرح کے واقعات کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں سے کوئی جماعت برسراقتدار ہوتی تو اُس کا طرزِ عمل بھی مختلف نہ ہوتا‘ وہ بھی اپنے اُمیدوار کی کامیابی کے لیے تمام تر ہتھکنڈے اپناتی لیکن اب انگلیاں اسی جماعت پر اٹھیں گی جو برسرِ اقتدار ہے۔ معلوم نہیں ہمارے حکمران یہ بات کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ اس طرح انتخابات میں دھاندلی اور دھونس سے وہ عوامی مقبولیت نہیں پا سکتے، بلکہ ایسے حربوں سے الٹا نقصان پہنچتا ہے۔
اب آخری بات! اگست 2021ء میںڈاکٹرصاحبہ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہوجاتی ہیں یا اُنہیں ہٹادیا جاتا ہے‘ عہدے سے معزولی کے چند دن بعد ہی وہ پنجاب اسمبلی تشریف لاتی ہیںلیکن اُنہیں اندر داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ منظرپورے ملک نے دیکھا۔ ڈسکہ میں ضمنی انتخابات جتوانے کیلئے اُن کی '' اَنتھک کوششوں‘‘ کو تو الیکشن کمیشن کی رپورٹ نے واضح کردیا لیکن وقت بدلا تو وہ پنجاب اسمبلی کے اندر بھی داخل نہ ہوسکیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ انسان کسی اچھی پوزیشن پر ہو تو اچھی باتیں کرے تاکہ جانے کے بعد کوئی یاد تو رکھے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں