ملکی حالات کے تناظر میں متحارب سیاسی فریق اب درمیانی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ یہ امر کچھ باعث ِ اطمینان ہے کہ قریہ قریہ بستی بستی سجے ٹاک شوز میں اب درمیانی راستے کی بات ہو رہی ہے اور مختلف آپشنز پر غور و فکر کا عمل بھی جاری ہے۔ تقریباً ایک سال قبل یونیورسٹی میں ایک مباحثے کے دوران کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے موقف اختیار کیا کہـ سیاسی جدوجہد میںدرمیانی راستہ درمیانے درجے کے لوگ اختیار کرتے ہیں اور عظیم لوگ صحیح راستہ اختیار کرتے ہیں۔ میں نے اپنے اِس موقف کی تائید میں تحریکِ پاکستان میںعظیم قائد کے کردار کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔ میں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے اخلاص اور عظمت کی مثال دی کہ انہیں متعدد مواقع پر درمیانی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا اور لالچ بھی‘ لیکن وہ پاکستان کے بارے میں اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے اور اپنے تئیں انہوں نے صحیح راستہ اختیارکیا اور درست فیصلہ کیا۔ بلا شبہ اُس وقت گفتگو اور مباحثے کا پس ِ منظر آج کے حالات سے قدرے مختلف تھا۔
اِس وقت ملکی حالات بہت نازک موڑ پر آن پہنچے ہیں۔ماحول میں گرمی اور سر گرمی کی شدت ہے ۔ قریب قریب تصادم کی صورتحال درپیش ہے جہاں حکومت کہیںطاقت اور کہیں سیاست کے آپشنز استعمال کرر ہی ہے۔ مختلف سیاسی قوتیں اور نظریے باہم متصادم دکھائی دے رہے ہیں۔ نئی سیاسی صف بندیاں اُبھرنے کو تیار ہیںاور تمام قوتیں اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کو بے چین دکھائی
دیتی ہیں اور چند اپنی ساکھ کو بحال کرنے یا بچانے میں مصروف ہیں۔ چونکہ ایسے حالات میں حکومتی عمل داری بھی داؤ پر دکھائی دیتی ہے‘ اِس لئے حکومت کی طرف سے کبھی دفاعی اور کبھی جارحانہ انداز بھی اختیار کیا جا رہاہے تاکہ دونوں صورتوں میں احتجاج کرنے والے فریق کا ردِ عمل دیکھا جاسکے۔ حکومت کے علاوہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں اور رویہ ایسا اپنایا جا رہا ہے کہ کہیںسے ابھی تک کسی لچک یا مفاہمت کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ تمام سیاسی قوتیں کسی متوقع تصادم سے بچنے کے لئے کوشاں ہیں اور اثر و رسوخ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ آخری معرکے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر پہنچ کر مسئلے کا پُر امن اور جامع حل تلاش کیا جا سکے۔
اِ س ساری صورتِ حال میں دو طرح کی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک مکتبہ فکر یہ سمجھتا ہے کہ درمیانی راستہ بہتر آپشن ہے کہ حکومت کو قائم ہوئے ایک سال اور چند ماہ ہو ئے ہیں اور اتنی قلیل مدت میں کسی بھی حکومت سے انہونیوں کی اُمید رکھنا زیادہ مناسب نہیں۔ حکومتی پالیسیاں اور فیصلے ابھی واضح ہو نا باقی ہیں اور ابھی اُن کے فیصلوں کے نتائج بھی آنا شروع ہونے ہیں۔اور اتنی کم مدت کسی حکومت کی کارکردگی کو پرکھنے کے لئے ناکافی ہے۔ اِس لئے یہ مطالبہ کہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیا جائے اور وسط مدتی انتخابات منعقد کئے جائیں ایک نامناسب اور قبل از وقت مطالبہ ہے۔ جبکہ دوسرے مکتبہ فکر کے مطابق پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں جو بنیادی تبدیلیاں انتہائی ناگزیر ہیں وہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں نہیںہیں بلکہ اِس کی بقا اِسی نظام کے تسلسل میں ہے۔ اُن کے خیال میں حکومت صریح انتخابی غلطیوں کا ازالہ کرنے اور جامع انتخابی اصلاحات میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ دیکھو اور انتظار کرو جیسی ٹال مٹول پالیسی پر عمل پیرارہی ہے اور رہنا چاہتی ہے۔ ٹھنڈے مزاج کے لوگ حکومت کو درمیانی راستہ دینے کے حق میں ہیں جبکہ قدرے گرم مزاج لوگوں نے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کر دی ہے اور مطالبات پر فوری عمل درآمد چاہتے ہیں۔
اِس ضمن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ درمیانی راستہ کیا ہو ؟ ایسا راستہ جو ملکی مفادات کے تحفظ کا راستہ بھی ہو اور اناؤں کی تسکین کا راستہ بھی کہ اب متصادم قیادت کو اپنی اپنی جگہ وآپس جانے کے لئے محفوظ راستہ بھی درکار ہے۔ لیکن درمیانی راستے کی نسبت سے چند سوال بھی بہت اہم ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ناقص انتخابی طریقہ کار ایک ایسے نظام کو کندھا دے رہا ہے جو مسلسل ایک استحصال کی آبیاری کر رہا ہے تو اِس صورت میں جامع انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے درمیانی راستہ کیا ہو؟ کرپشن اور مالی بد عنوانی معاشرے کے تمام طبقات میں سرایت کر چکی ہے اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اگر کوئی شخص اُس کے خاتمے کے لئے کڑے قوانین کا مطالبہ کرے تواُس کے لئے درمیانی راستہ کیا ہو سکتاہے؟ اگر ایک فریق جو یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے ساتھ انتخابی عمل کے دوران نا انصافی ہوئی اور وہ انصاف کا تقاضا کرے تو اُسے کس درمیانی راستے پر راضی کیا جائے؟ اگر کرپشن، بیڈگورننس، اقرباپروری اور استحصالی نظام مسائل ہیں تو درمیانی راستہ کیا ہو؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو درمیانی راستہ اب بخوشی دیا جارہا ہے یہی احتجاج کرنے والوں کا ابتدائی مطالبہ بھی تھا ۔ اگر یہ پیش کش چند ماہ پہلے کر دی جاتی تو کسی کے پاس آخری راستہ ا ختیار کرنے کا جواز نہ ہوتا ۔
درمیانی راستہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ راستہ جو دو انتہاؤں کے درمیان کا راستہ ہو یا اُس سے کسی بھی انتہائی ردِ عمل کو زائل کیا جا سکے۔ درمیانی راستہ بنیادی طور پر فریقین کے لئے قابلِ قبول حل ہو سکتا ہے‘ لیکن طے شدہ بات یہ ہے کہ اگر فریقین درمیانی راستے پر متفق ہو بھی جاتے ہیں تو جھکاؤ اور فائدہ اپوزیشن کو ہی ہو گا۔ حکومت کے لئے اپنی پرانی پوزیشن پر کھڑا رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے اور نئی پوزیشن کا مطلب یہ ہو گا کہ نہ صرف مطالبات کو درست تسلیم کر لیا گیا ہے بلکہ اُس پر عمل درآمد کا فریم ورک بھی طے ہوگا۔ اِس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو کچھ انتہائی مطالبات پرکچھ لو اور کچھ دو کے اُصول کے تحت اپنی پوزیشن کو تبدیل کرنا پڑے گا جن میں استعفیٰ اور وسط مدتی انتخابات شامل ہیں ۔ درمیانی راستہ اختیار کرنے سے متوقع تصادم سے احتراز ہو سکتا ہے جو بہرحال کئی طرح کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
میرا آج بھی یہ خیال ہے کہ درمیانی راستہ صحیح راستہ نہیں ہوسکتا۔ میں بھی کروڑوں پاکستانیوں کی طرح خواہش رکھتا ہوں کہ یہ ملک صحیح راستے پر گامزن ہو‘ لیکن یہ ایسا سہل بھی نہیں ہے۔ اس کے لئے ہماری مجموعی سیاسی قیادت کو پارٹی اور ذاتی مفادات سے بہت اُوپر اُٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے اور درمیانی راستے کے بجائے صحیح راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ قومی مفادات کا درست تعین کرکے صحیح سمت میں سفر کا آغاز کرنا پڑے گا‘ لیکن ہمیں اِس حقیقت کے ساتھ رہنا ہے کہ ہمیں درمیانی راستے کے لئے درمیانے درجے کے لوگ دستیاب ہیں اور صحیح راستے کے لئے جناح کے اخلاص والے لوگ میسر نہیں۔ہمارے پاس اِس کے سواآ پشن نہیں کہ درمیانی راستے کی حمایت کریں کہ ہمیں ابھی تک درمیانے درجے کے لوگوں سے معاملہ ہے اور صحیح راستے کے لئے عظیم لوگوں کا انتظار کریں کہ مایوسی بہرحال گناہ کے زُمرے میں آتی ہے۔