ریلیکس ! عمران خان

وزیر اعظم عمران خان صاحب! شور شرابہ ہو گا کہ جب مایوسی کے اندھیرے چھائے ہوں تو شور بھی ایک آپشن ہوتا ہے۔ دھینگا مشتی بھی چلے گی کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست میں دھینگا مشتی کے اطوار آپ نے متعارف کروائے اور آپ کو بھی وہ کاٹنا چاہیے ‘جو آپ نے بویا تھا ۔اور تاریخ کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ کہیں نہ کہیں خود کو کسی نہ کسی شکل میں دہراتی ضرور ہے۔لو گ اشتعال انگیزی کریں گے کہ پرانے کھلاڑی جانتے ہیں کہ کسی کو کیسے اشتعال دلا کر کہاں ٹریپ کیا جاتا ہے اور آپ باآسانی پھیلا ئے گئے‘ جال میں آگئے۔اور یوں وزیر اعظم بننے کے بعد آپ کی تقریر‘ جو ایک تاریخی تقریر متوقع تھی اورساری قوم کی نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ ایک سطحی سی ہلکی پھلکی سی بات چیت ہو کر رہ گئی۔ وہ لوگ جن کے عمل پر اب کسی کی گہری نظر نہیں‘ وہ چالاکیوں سے آپ کو عامیانہ ردِ عمل پر مجبور کرنے کی سعی کریں گے۔ لوگ آپ کو سطحیت کے دائرے میں لانے کی کوشش کریں گے اوراب تک کے واقعات کی روشنی میںغالب گمان یہ ہے کہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو جائیں گے۔عمران خان! اس کے لئے آ پ کو مجنوں جیسا طور اپنانا ہو گا۔ آپ کو مجنوں کی طرح ہر چھیڑنے والے کے پیچھے پتھر اُٹھا کر بھاگنے سے گریز کرنا ہوگا۔ جب آپ ہر چھیڑ چھاڑ کرنے والے شخص کی طرف پتھر اُٹھا کر بھاگیں گے‘ تو آپ غیر ضروری طور پر اُلجھ جائیں گے۔ اور غیر ضروری اُلجھاؤ میں وقت ضائع ہو گا اور اور منزل دُور پڑ جائے گی۔ 
آپ کے ساتھیوں میں کو جن میں بڑی تعداد پُرانے کھلاڑیوں کی ہے‘ کو پیش بینی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا کہ ایک سیاسی جماعت جو سال ہا سال سے ملک میں سیاہ و سفید کی مالک ہے ‘ جو ملک کے سب سے بڑے صوبے پر گزشتہ دس سال سے بلا شرکت غیرے حکومت کر رہی تھی‘ وہ الیکشن کے نتیجے میں باہر ہو جائے‘ تو اُس کے پاس کیا آپشن ہے ؟ اُس جماعت کے پاس جارحانہ پن اختیار کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیںہے اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ اُس جماعت کے پاس فی الوقت کھونے کے لئے بھی کچھ نہیں۔ اپوزیشن کا اشتعال سمجھ میں آتا ہے کہ اُن کی دانست میں بہت سے محرکات کے علاوہ الیکشن کمیشن جیسے ادارے کے غیر محتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے اُن کو سیاسی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ حزبِ اختلاف کا احتجاج توقع کے مطابق تھا۔ جو کچھ قومی اور صوبائی ایوانوں میں ہو رہا ہے‘ اُس کی اُمید کی جانی چاہیے تھی۔ اور نئی حکمران جماعت کو نہ صرف اس کا ادراک کرنا تھا ‘بلکہ اس کے لئے مناسب حکمت ِعملی بھی طے کرنی چاہیے تھی۔
حلف برداری کی تقریب کے دوران اور بعد میں گارڈ آف آنر کے دوران بھی آپ کی باڈی لینگویج ایک پُر اعتماد لیڈر جیسی نہیں تھی‘ جو ا س بات کا ثبوت تھی کہ آپ اور آپ کی پارٹی نے انتہائی اہم دِن کی کوئی تیاری نہیں کی ۔ اس قدر اہم دِن کے لئے بریفنگ اور ریہرسل کا اہتمام ہونا چاہیے تھا‘ جو ساری دُنیا میں ایسے مواقع کے لئے رائج ہے۔ قوم اپنے وزیر اعظم کو ایک پُر اعتماد شخص کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ اُن کے وزیر اعظم کا بولا گیا ہر لفظ نپا تُلا اور اُٹھایا گیا ہر قدم سوچا سمجھا ہو۔اور اگر کہیں سے اس بات پر اعتراض اُٹھایا جا رہا ہے‘ تو وہ بھی بالکل مناسب ہے ۔ یہ تاثر دیا جانا بھی بہت ضروری ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف ایک منظم جماعت ہے اور قوم نے اس پر اعتماد کر کے صحیح فیصلہ کیا ہے۔ 
بہت سے چینلزکی سکرینوں پرتسلسل سے براجمان دانشور اور تجزیہ کار آپ کو کہیں گے کہ آپ کو وزیر اعظم بنے پورے دو ہفتے گزرچکے ہیں اور نیا پاکستان دکھائی نہیں دے رہا۔بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر آپ کے نئے پاکستان کا مذاق اُڑائیں گے۔ بہت سی بے چین روحیں اپنے تئیں طنز ومزاح کی ایک مؤثر مہم چلائیں گی۔ مخالفین تما م نامزدگیوں کو بد نیتی قرار دیں گے۔ ناقدین تمام نئے تعینات کئے گئے لوگوں کے سالوں پُرانے کچے چھٹے کھول کھول کر بیان کریں گے اور یوں لگے گا کہ سارا کا سارا حکومتی کیمپ جرائم پیشہ ‘ نااہل ‘ بددیانت اور موقع پرستوں کا جتھا ہے اور عمران خان کیونکر ایسے کھوٹے سکوں اور چلے ہوئے کارتوسوں سے اپنے نئے پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ سیاسی چالوں کے موجد اور ماہرین اپنی کارکردگی دکھائیں گے اور پاکستان تحریک ِ انصاف کی گورننس کو صرف پارٹی کا قولی بیانیہ ثابت کریں گے‘ جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیںہے ۔آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ بادِ مخالف ہو گی۔ نا سازگا ر حالات ہوں گے۔ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے ۔ نا پسندیدہ نتائج سامنے آرہے ہوں گے اور تمام توپوں کے دھانے آپ کی جانب ہو ں گے اور آپ کے صبر اور عزم کا امتحان ہو گا۔ 
اب جب کہ یہ سب جو ہوا ‘ جو چل رہا ہے اور چلتا رہے گا تو بہترین حکمت ِ عملی کیا ہے؟ بہترین حکمت ِ عملی یہ ہے کہ آپ اخلاص اور تندہی سے اپنے کئے گئے وعدوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔ پارلیمنٹ ایک فورم ہے‘ جہاں اُس سے باہر کئے جانے والے کاموں پر جواب طلب کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے وعدوں پر قائم ہیں اور ملک کے مفاد میں پُر عزم ہیں‘ تو سوالوں کی تلخی و تُر شی بتدریج کم ہو تی جائے گی‘ لیکن اگرآپ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح مصلحتوں کا شکار ہو گئے اور کئے گئے وعدوں سے انحراف کر گئے‘ تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شور شرابہ ‘ دھینگا مشتی اور اشتعال انگیزی زور پکڑے گی اور اس سارے عمل میں ہار صرف آپ کے نظریے کی ہو گی۔ آپ کے نظریے کی ہار لاکھوں لوگوں کو مایوسیوں کے گھنے جنگل میں دھکیل دے گی۔ 
ریلیکس ! عمران خان ! ریلیکس! مجنوں کی طرح پتھر اُٹھا کر ہر شخص کے پیچھے بھاگنے سے گریز کریں ۔ ویسے از راہ ِتفنن عرض ہے کہ مجنوں کا نام تاریخ میں اس لئے رہ گیا کہ اُس نے اخلاص سے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی۔ 
بہت سے چینلزکی سکرینوں پرتسلسل سے براجمان دانشور اور تجزیہ کار کہیں گے کہ آپ کو وزیر اعظم بنے پورے دو ہفتے گزرچکے ہیں اور نیاپاکستان دکھائی نہیں دے رہا؟بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر آپ کے نئے پاکستان کا مذاق اُڑائیں گے۔ بہت سی بے چین روحیں اپنے تئیں طنز ومزاح کی ایک مؤثر مہم چلائیں گی۔ مخالفین تمام نامزدگیوں کو بد نیتی قرار دیں گے۔ ناقدین تمام نئے تعینات کئے گئے لوگوں کے برسوں پُرانے کچے چھٹے کھول کھول کر بیان کریں گے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں