جدید ریاستی نظام تقریباً پونے چار سو سال پہلے یورپ میں متعارف ہوا۔ اس کے بعد ایک تدریجی عمل کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچا اور آج ہمارے کراہ ارض پر ماسوائے انٹارکٹکا کے، ہر طرف موجود ہے۔ ان ریاستوں کے اندر حکومتی نظام ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔ حکومتی اور سیاسی نظاموں کی ترویج بھی ایک ارتقائی عمل سے گزرتی رہی۔ موروثی اور نمائندہ طریقۂ حکومت کے درمیان ایک طویل اور کبھی کبھار خونریز جدوجہد کے بعد نمائندہ حکومتوں کا تصور مضبوط ہوا؛ تاہم جنگ عظیم دوئم کے بعد بین الاقوامی برادری میں شامل ہونے والے اراکین اپنی داخلی سیاست میں ترقی یافتہ سیاسی نظاموں کے ہم پلہ سیاسی ڈھانچے تشکیل دینے میں مشکلات کا شکار رہے‘ بالخصوص لاطینی امریکہ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے وہ ممالک جن میں نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بننے والی حکومتیں خراب کارکردگی کے باعث غیر مقبول ہوئیں۔ یہ ملک ریاستی تعمیر اور قومی تعمیر کے عمل کو ایک موثر انداز میں آگے نہ بڑھا پائے۔ گورننس کے بنیادی مسائل میں اُلجھے رہے‘ لہٰذا خراب معیشت اور سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں عوام کا اعتماد ان حکومتوں سے اُٹھتا چلا گیا۔ حکمرانی کے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے وہاں ہمیں مارشل لاز نظر آئے۔
عالمی ماحول میں جاری سرد جنگ نے ان غیر منتخب اور غیر آئینی حکومتوں کو جائزیت فراہم کی اور اس طرح یہ حکومتیں بعض صورتوں میں تو کئی دہائیاں قائم رہیں؛ تاہم سرد جنگ کے بعد مارشل لائی حکومتیں زوال پذیر رہیں۔ اس کی بڑی وجہ عالمی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تنظیموں کے آپریشنز کے لیے ترقی پذیر دنیا میں اربنائزیشن اور نئے قوانین کی ضرورتیں تھیں‘ جو شخصی حکومتوں کے ذریعہ ممکن نہ تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب اپنی سیاسی اور معاشرتی قدروں کو دنیا میں پھیلانا چاہتا تھا۔ ان قدروں میں انسانی حقوق، جمہوریت، انتخابات اور اظہار رائے کی آزادی شامل تھیں۔
اس پس منظر میں تیسری دنیا کے اندر سیاسی نظاموں کے ڈھانچے تبدیل ہونے لگے؛ تاہم چونکہ سیاسی کلچر ایک ارتقائی انداز میں تبدیل ہوتا ہے‘ اس لیے ان ممالک میں جمہوری سیاسی کلچر اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں وقت لے رہا ہے۔ کچھ ممالک ابھی تک اس کو اپنا نہیں پائے‘ اس کے باوجود مضبوط ریاستوں کے طور آگے بڑھ رہے ہیں۔ چین، جنوبی کوریا وغیرہ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ہمارا تجربہ بھی ترقی پذیر دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح سویلین بالادستی کے بحران سے دوچار رہا۔ سول ملٹری تعلقات کا جائزہ لیے بغیر ہماری قومی سیاسی تاریخ کا بامقصد تجزیہ ممکن نہیں۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ وہی سیاسی نظام فعال اور مضبوط ہوتا ہے جو سویلین بالادستی کے اصول پر قائم ہوا‘ لیکن ہماری سیاسی تاریخ کا ایک مختصر جائزہ یہ بتاتا ہے کہ آزادی کے فوراً بعد ہی سول ملٹری تعلقات کا توازن بگڑنا شروع ہوگیا‘ اور یوں سویلین ادارے اپنی افادیت برقرار نہ رکھ پائے۔
1950 کی دہائی کے بالکل اوائل میں ملک کے بڑے صوبے میں ایک مذہبی تحریک نے پُرتشدد رنگ اختیار کر لیا، سول ادارے، انتظامیہ صورتحال پر کنٹرول پانے میں ناکام ہو گئے اور سکیورٹی اداروں کو مدد کے لیے آنا پڑا‘ جس کے بعد صورت حال جلد کنٹرول میں آ گئی؛ تاہم ہمارے سویلین ڈھانچے کی کمزوریاں نمایاں ہونے لگیں۔ اس کے بعد ملک میں مختلف حکومتوں کے دوران قانون کی حکمرانی کے مسائل، پارلیمنٹ کا غیر فعال ہونا، انتظامیہ کا خود مشکل فیصلے کرنے کے بجائے عدلیہ کی طرف دیکھنا‘ سیاسی قوتوں کا سیاسی نظام کے اندر رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہونا اور سیاسی تضادات کے حل کے لیے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنا‘ یہ تمام ایسے محرکات ٹھہرے جن کے نتیجے میں سویلین بالادستی کا اصول کمزور بنیادوں پر کھڑا رہا۔
اس کے علاوہ قومی سانحات کے دوران‘ چاہے وہ بدترین سیلاب تھے یا زلزلے یا پھر پچھلے دو سال سے جاری کورونا وبا‘ ان تمام واقعات کے نتیجے میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہمار ا سویلین ڈھانچہ غیر موثر ثابت ہوا۔ بروقت ریلیف صرف سکیورٹی اداروں کے تعاون سے ممکن ہوا۔ مردم شماری ملک کے اندر ایک بنیادی اہمیت کا حامل عمل ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ہی یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ آبادی کو دستیاب وسائل کا تناسب کیا ہے اور سوشل انجینئرنگ کس طرح ممکن ہو سکے گی‘ مگر ہمارے ہاں یہ عمل بھی سول اداروں کے بس کی بات معلوم نہیں ہوتی۔ سویلین بالادستی اگرچہ محض انتخابات کے بروقت اور باقاعدہ انعقاد سے حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے لیے قانونی جائزیت کے ساتھ ساتھ سیاسی حکومتوں کو اخلاقی جائزیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے؛ تاہم انتخابات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ہمارے ہاں اگرچہ قومی سطح پر منعقد ہونے والے انتخابات کی تاریخ اتنی اچھی نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ جن چند انتخابات کے نتائج کو مجموعی طور پر تسلیم کیا گیا وہ افواج کی نگرانی میں کروائے گئے۔ حال ہی میں ڈسکہ این اے 75 کا ضمنی انتخاب اس کی واضح مثال ہے۔
دنیا میں کورونا کی لہر نمودار ہوئی۔ پاکستان کے اندر NCOC کے ادارے نے اس حوالے سے کام شروع کیا اور آج دنیا میں ہماری Covid-19 کی موثر Management کی تعریف ہو رہی ہے۔ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے‘ لیکن پچھلی کچھ دہائیوں میں وہاں امن و امان کی صورت حال میں ابتری آئی ہے۔ سٹریٹ کرائم، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ وہ جرائم تھے جس کی وجہ اس شہر کی معاشی سرگرمی بری طرح متاثر ہوئی۔ سندھ کی صوبائی حکومت کو پچھلے کئی سالوں سے پیراملٹری اداروں کی مدد درکار رہی تاکہ وہ امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کر سکے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صوبائی ادارے اپنی کارکردگی اور اہلیت دونوں میں اضافہ کرتے تاکہ ان اداروں کو امن و امان اور اندرونی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوتی۔ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچے جمہوریت کی روح سے ہی خالی ہیں۔ اس صورت حال میں وہ ملکی نظام کو کس طرح سویلین بالادستی کی طرف لے کر جا سکتی تھیں۔ ملکی تاریخ کی دو بڑی قدآور سیاسی شخصیات ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف تھیں۔ دونوں گراس روٹ لیول سے اوپر نہیں آئے بلکہ انہیں مقتدر قوتوں کی سرپرستی سے ملکی قیادت میسر آئی۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے جماعتی نظام کی خامیاں سمجھی جاتی ہیں۔ سیاسی قیادت کا انگریزی بولنا یا بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہونا کوئی لازمی امر نہیں۔ ایسے کئی جمہوری اور غیر جمہوری ممالک موجود ہیں جہاں کامیاب لیڈرز وہ تھے جو اوسط تعلیمی قابلیت اور متوسط معاشرتی پس منظر سے آئے‘ لیکن ان کا سیاسی عزم، عوام کے مسائل کا بھرپور ادراک، خود اعتمادی اور فکری بلوغت انہیں قدآور شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کر گئی۔
کوئی سیاسی فلسفہ‘ جس کی بنیاد پر حکومتی نظام ترتیب دیا جاتا ہے‘ اس وقت تک کامیا ب نہیں ہو سکتا جب تک اس کے مطابق ایک سماجی اور معاشی ڈھانچہ تشکیل نہ دیاجائے۔ پاکستان میں جدید نظام تعلیم، صنعت سازی، زرعی اصلاحات اور مڈل کلاس کا پھیلاؤ ایسے اقدامات ہو سکتے ہیں جو ہمارے سیاسی کلچر کو پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔
کیا دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح‘ جن میں ترکی اور پرتگال شامل ہیں، ہماری منتخب حکومتیں معاشی ٹرن اراؤنڈ ڈلیور کر سکیں گی؟ کیونکہ آخری تجزے میں سویلین بالادستی تبھی قائم ہو سکتی ہے جب نمائندہ حکومتیں عوام کو سماجی، اقتصادی انصاف دے سکیں۔ جس معاشرے میں عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی بلا تعطل جاری ہو وہاں موجود لوگ حکومتوں پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کی نظر میں ایسے تمام ادارے جو انہیں یہ خدمات بہم پہنچا رہے ہوتے ہیں وہ ان اداروں کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔