بزنس فورم:زرعی، باغبانی برآمدات فروغ کیلئے ساختی اصلاحات پرزور

بزنس فورم:زرعی، باغبانی برآمدات فروغ کیلئے ساختی اصلاحات پرزور

موثر اقدامات نہ کرنے سے عالمی منڈیوں میں مسابقتی حیثیت مزید کھونے کا خدشہ سیلاب، موسمی تبدیلی، مالی دباؤ سے برآمد کنندگان پریشان، چیف آرگنائزر چوہدری احمد

کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان بزنس فورم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زرعی اور باغبانی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے فوری اور مؤثر ساختی اصلاحات کرے ، بصورت دیگر پاکستان عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقتی حیثیت مزید کھو سکتا ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی زرعی برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ بار بار آنے والے سیلاب، موسمیاتی تبدیلیوں اور مالی دباؤ کے باعث کسان اوربرآمد کنندگان شدید مشکلات کا شکار ہیں ایسے حالات میں پی بی کا ایف حکومت سے مطالبہ ہے کہ فنانس بل 2024 کے تحت نافذ نارمل ٹیکس رجیم کو کم از کم دو سال یعنی 2028 تک مؤخر کیا جائے ، اس عبوری مدت کے دوران برآمدی رقوم پر ایک فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو فل اینڈ فائنل ٹیکس کے طور پر بحال کیا جائے تاکہ برآمدی شعبے کو یقین، نقدی اور فوری ریلیف مل سکے ۔فورم نے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے بجلی نرخوں میں کمی کی بھی سفارش کی۔ پی بی ایف کے مطابق بجلی کی بلند قیمتوں نے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے ، جس سے کسانوں کی منافع بخش صلاحیت متاثر ہوئی اور پیداوار کی حوصلہ شکنی ہوئی، انہوں کہا کہ کارگوٹرینوں سے اندرون ملک فریٹ لاگت کم کی جائے ، فورم نے کم از کم برآمدی قیمت کے نظام کو مستقل طور پر ختم کرنے اور پاکستان کے اعلیٰ معیار کے باسمتی چاول کو اسکی قدرتی خصوصیات جیسے دانے کی لمبائی، خوشبو اور پکانے کے بہترین معیار کی بنیاد پر فروغ دینے کی سفارش کی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں