سٹاک ایکسچینج:مندی برقرار 300ارب سے زائد ڈوب گئے

سٹاک ایکسچینج:مندی برقرار  300ارب سے زائد ڈوب گئے

کراچی(بزنس رپورٹر)امریکا ایران کے درمیان ابتر حالات، آبنائے ہرمز کی بندش ، عالمی سطح پر پٹرولیم قیمتوں کا مسلسل بڑھنا ، ملکی سطح پر مہنگائی کی بڑھتی نئی لہر اور توانائی بحران کے سبب کاروباری ہفتے کے چوتھے روز سٹاک ایکسچینج مسلسل مندی کی لپیٹ میں رہی ۔

100 انڈیکس کی 1لاکھ 65ہزار، 1لاکھ 64ہزار اور 1لاکھ 63ہزار پوائنٹس کی مزید3نفسیاتی حدیں گرگئیں۔ شدید مندی کے سبب 72فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید313ارب روپے ڈوب گئے ۔شرح سود میں ایک فیصد اضافہ، تیل کا درآمدی بل بڑھنے سے افراط زر کی شرح ڈبل ڈیجٹ پر آنے خطرات سے مارکیٹ پر تکنیکی اور منفی سٹیمنٹس حاوی رہے جس سے کاروبار کے تمام دورانیے میں مارکیٹ منفی زون میں رہی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2829 پوائنٹس کی کمی سے 162994 پوائنٹس پر بند ہوا، اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 1634 پوائنٹس کی کمی سے 97525پوائنٹس، کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس1634 پوائنٹس کی کمی سے 97525 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 4583 پوائنٹس کی کمی سے 234097 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم 23فیصد کم رہا ۔گزشتہ روز83کروڑ 73لاکھ 71ہزار 894 حصص کے سودے ہوئے ۔مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا جس میں سے 101 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ ،348میں کمی اور 36 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں