کاٹن ایکسچینج عمارت مسلسل سیل، مبینہ قبضے پرکراچی چیمبر کوتشویش

کاٹن ایکسچینج عمارت مسلسل سیل، مبینہ قبضے پرکراچی چیمبر کوتشویش

اقدام کپاس کی تجارت کیلئے سخت نقصاندہ، کاروباری سرگرمیاں معطل، ریحان حنیف برآمدی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا، بیان

کراچی (کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ریحان حنیف نے تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کو مسلسل سیل رکھنے اور جبری قبضے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام نے پاکستان کی کپاس کی تجارت کو شدید نقصان پہنچایا، سیکڑوں کاروباری اداروں کی سرگرمیاں معطل ہیں اور سرمایہ کاری ماحول کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا، بیان میں انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی کوکاٹن ایکسچینج بلڈنگ کی بندش سے متاثر ہونیوالی اپنی ممبرز کمپنیوں کی جانب سے مسلسل شکایات مل رہی ہیں، مجموعی 209 تجارتی دفاتر جن میں سے کئی1947 میں قیام پاکستان سے ہی کام کر رہے تھے ایک ہی دن میں غیر فعال ہو گئے ، ان دفاتر میں درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، کاٹن بروکرز، تاجر،کمیشن ایجنٹس، ٹیکسٹائل سے وابستہ کاروباری ادارے اور پاکستان کی کاٹن ویلیو چین سے منسلک متعدد ادارے شامل ہیں، لہٰذا اس اچانک سیلنگ نے ان اداروں کی کاروباری سرگرمیوں کو مکمل روک دیا۔ ریحان حنیف نے یاد دلایا کہ کراچی کاٹن ایکسچینج 1934 سے پاکستان کی آزادی سے بھی پہلے ملک میں کپاس کی منظم تجارت اور شفاف قیمتوں کے تعین کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہاہے 1947 میں قیام پاکستان کے بعد بھی یہ کاٹن اکنامی میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا مگر تقریباً ایک سال قبل اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہوگئیں۔ اگرچہ 1976میں ہیجنگ ٹریڈنگ بند کر دی گئی تھی تاہم ایکسچینج روزانہ کاٹن اسپاٹ ریٹس کے اعلان کی اہم ذمہ داری نبھاتا رہا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں