پٹرولیم بیسڈ کیمیکلز درآمد پر ایکسپلوسوز لائسنس شرط میں عارضی نرمی
صنعتی شعبے کوخام مال کی فوری اور آسان فراہمی کے پیش نظر حکومت کا فیصلہ صنعتی صارفین اپنے لئے درآمد کر سکیں گے ، وزارت توانائی، نوٹیفکیشن جاری
کراچی (کامرس رپورٹر)حکومت نے صنعتی شعبے کو خام مال کی فوری اور آسان دستیابی یقینی بنانے کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ہیکسین سمیت پٹرولیم بیسڈ کیمیکلز کی درآمد پر عائد ایکسپلوسوز لائسنس کی شرط میں عارضی نرمی کر دی ہے ۔ وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے نوٹیفکیشن کے مطابق مجاز اتھارٹی نے صنعتی صارفین کو انکے اپنے استعمال کیلئے کیمیکلز اور پٹروکیمیکلز کی درآمد یا کلیئرنس کیلئے ایک مرتبہ کی بنیاد پر لائسنسنگ شرط سے استثنیٰ دیدیا، یہ رعایت نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ سے تین ماہ تک مؤثر رہے گی، تاہم حکومتی وضاحت کے مطابق یہ سہولت تمام کیمیکلز کیلئے نہیں ہوگی۔ مراسلے میں کہا گیا کہ لائٹ الیفیٹک ہائیڈرو کاربن سالونٹ، وائٹ اسپرٹ، نیفتھا اور زمینی راستوں کے ذریعے درآمد ہونے والی دیگر پٹرولیم مصنوعات، جو بطور ایندھن استعمال ہو سکتی ہیں، اس استثنیٰ کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہونگی۔ان مصنوعات کی درآمد کیلئے پہلے کی طرح پٹرولیم رولز کے تحت مکمل لائسنسنگ اور ریگولیٹری تقاضے پورے کرنا لازمی ہونگے ، حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صنعتی شعبے کو درپیش خام مال کی سپلائی چین میں رکاوٹوں کو کم کرنا، درآمدی عمل کو تیز کرنا اور پیداواری سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہے خاص طور پر کیمیکل، فوڈ پروسیسنگ، پینٹ، فارماسیوٹیکل اور دیگر مینوفیکچرنگ صنعتوں کو اس اقدام سے فوری ریلیف ملنے کی توقع ہے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق لائسنسنگ شرط میں عارضی نرمی سے نہ صرف درآمدی تاخیر کم ہوگی بلکہ صنعتی لاگت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔