شرح سود11.5فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ مسترد

شرح سود11.5فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ مسترد

معاشی سکڑاؤ پر مبنی پالیسی قرار ،سنگل ڈیجٹ شرحِ سود ناگزیر ہے صنعتی بحالی،کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہونگی،ثاقب فیاض مگوں

کراچی(بزنس رپورٹر)وفاقی چیمبرکے قائم مقام صدر ثاقب فیاض مگوں نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کلیدی پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیداواری لاگت کم کرنے ، اشیا و خدمات کو عوام کے لیے زیادہ قابلِ استطاعت بنانے اور معیشت کو دوبارہ متحرک کرنے کیلئے سنگل ڈیجٹ شرحِ سود ناگزیر ہے ۔ایف پی سی سی آئی نے اس فیصلے کو معاشی سکڑاؤ پر مبنی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلند شرحِ سود برقرار رکھنے سے معاشی سرگرمیاں مزید سست ہوں گی، کاروباری اداروں کی مالی وسائل تک رسائی محدود ہوگی اور ملک میں صنعتی بحالی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے اسٹیٹ بینک کے محتاط طرزِ عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کو توقع تھی کہ شرحِ سود میں کمی کی جائے گی تاکہ کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کم ہو اور تجارت و صنعت کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں سہولت مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنا کاروباری برادری کی توقعات کے برعکس ہے کیونکہ پاکستانی صنعت اور برآمد کنندگان پہلے ہی بلند توانائی نرخوں اور انتہائی زیادہ مالیاتی لاگت کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صنعتوں کو چلانا اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنا اتنی بھاری مالی لاگت کے ساتھ ممکن نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...