پلاسٹک صنعت کیلئے 2فیصد شرح سود پر قرضوں کی تجویز

پلاسٹک صنعت کیلئے 2فیصد شرح سود پر قرضوں کی تجویز

توانائی نرخوں، ٹیکسز اور بلند شرح سود سے صنعت دباؤ کا شکار، پی پی ایم اے

لاہور(اے پی پی)پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک،اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور وزارتِ صنعت و پیداوار پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے توانائی نرخ، ٹیکسز، بلند شرح سود اور پیداواری اخراجات کے باعث ملک کی پلاسٹک مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے لیے سستے ، طویل مدتی قرضوں کی فراہمی اور خصوصی معاونتی اقدامات کا اعلان کیا جائے ۔ یہ بات پی پی ایم اے کے چیئرمین سید زاہد احمد نے بیان میں کہی۔ انہوں نے صنعت کی پائیداری، جدید خطوط پر ترقی اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے عملی پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

ایسوسی ایشن نے صنعت کاروں کو مشینری کی اپ گریڈیشن، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور توانائی کی بچت میں مدد فراہم کرنے کے لیے سالانہ2 فیصد مقررہ شرح سود پر طویل مدتی ایس ایم ای فنانسنگ سہولت متعارف کرانے کی تجویز پیش کی۔ پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین راجہ عمر نواز نے کہا کہ تجارتی قرضوں پر بلند شرح سود چھوٹے صنعت کاروں کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہی ہے جس سے صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ وائس چیئرمین سید زین نقوی نے پلاسٹک کے شعبے کی معاونت کے لیے سمیڈا کے زیادہ فعال کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رعایتی فنانسنگ، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، ری سائیکلنگ اور فضلے میں کمی کے اقدامات کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پلاسٹک مینوفیکچررز پائیدار ٹیکنالوجی اپنا سکتے ہیں اور اپنی پیداواری کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...