اٹھارہ ہزاری:دریائے جہلم پر عارضی پل عوام کیلئے مشکلات کا سبب

اٹھارہ ہزاری:دریائے جہلم پر عارضی پل عوام کیلئے مشکلات کا سبب

حفاظتی پشتے تعمیر کر کے ایک پائیدار اور مستقل پل بنایا جائے : شہریوں کا مطالبہ

اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا )تحصیل اٹھارہ ہزاری کے قصبات مچھیانہ، ماچھیوال، ساہجھر، کوٹ شاکر اور علیانہ کے ہزاروں مکین ایک بار پھر دریائے جہلم پر عارضی پل کی تعمیر کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے حسبِ معمول عارضی پل کی تعمیر کا آغاز کر دیا، جو ہر سال موسم کی تبدیلی کے ساتھ معمولی بارشوں اور سیلابی ریلوں کی نذر ہو جاتا ہے ۔ نتیجتاً آمدورفت مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے اور پورا علاقہ کئی دنوں تک محصور رہتا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ عارضی پل نہ صرف عوام کے مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ قیمتی سرکاری وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔ پل بہہ جانے کی صورت میں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر، مریض بروقت طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات، اور کسان اپنی اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ماہرین کا مؤقف ہے کہ اگر دریائے جہلم کے دونوں کناروں پر مضبوط حفاظتی پشتے تعمیر کر کے ایک پائیدار اور مستقل پل بنایا جائے تو سیلابی نقصانات پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں