کسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں: ٹرمپ

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے، اور ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہی واحد حد ہے جو انہیں روک سکتی ہے، میں کسی عالمی قانون کو نہیں مانتا۔

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹروہو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں ہیں، امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اقدامات اور فوجی کارروائیاں امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ میں مددگار ہیں، انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے استعمال سے وہ عالمی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کبھی کبھار بین الاقوامی قانون پر عمل ضروری لگتا ہے، لیکن اس کا اطلاق اس بات پر منحصر ہے کہ اس قانون کی تعریف کس طرح کی گئی ہے، انہوں نے زور دیا کہ حقیقی فیصلہ اخلاقیات پر منحصر ہونا چاہئے۔

نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کا روس کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہئے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ تائیوان کے مسئلے پر چین کے اپنے خیالات ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کے خیال میں تائیوان چین کا حصہ ہے تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں تائیوان پر فوجی کارروائی کریں گے۔

 صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے، تائیوان پر چین کی جانب سے کسی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گے، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔

یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی آپریشنز اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے، ٹرمپ نے واضح کیا کہ عالمی طاقت کے استعمال میں انہیں آزادی حاصل ہے اور وہ صرف اپنی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں