کارپوریشن ملازمین کا درخواست بازوں سے گٹھ جوڑ

 کارپوریشن ملازمین کا درخواست بازوں سے گٹھ جوڑ

چار رکنی گروہ میں فائر مین، نائب قاصد، لائٹ سپروائزر اور جونیئر کلرک شامل،سرکاری و نجی نوعیت کی معلومات دے کر جھوٹی درخواستوں کا جواز فراہم کیا جاتا ہے

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے ملازمین اور عادی درخواست بازوں کے گٹھ جوڑ کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آگیا، جس میں میونسپل کارپوریشن کے ہی چار ملازمین عادی درخواست بازوں کے سہولت کار نکلے ۔ ذرائع کے مطابق اس چار رکنی گروہ میں فائر مین، نائب قاصد، لائٹ سپروائزر اور جونیئر کلرک شامل ہیں، جن کی عادی درخواست بازوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطوں کی تصدیق ہوچکی ہے ۔مذکورہ ملازمین سرکاری و نجی نوعیت کی معلومات عادی درخواست بازوں کو فراہم کرتے رہے ، جن کے ذریعے مختلف افسران اور ملازمین کے خلاف صوبائی محتسب، اینٹی کرپشن، کمشنر آفس، ڈپٹی کمشنر آفس اور چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کو بے بنیاد درخواستیں دی گئیں۔

ان درخواستوں کے ذریعے افسران پر دباؤ ڈالنے کی منظم کوشش کی جاتی رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں کی زد میں ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن جہانگیر انور کے پی اے ملک اکرم، ریگولیشن آفیسر عظمت فردوس، سپرنٹنڈنٹ جنرل شاہد رضا، سپرنٹنڈنٹ ریگولیشن سجاد شاہ، فوکل پرسن ڈوگ کیچر وحید نواز، بلڈنگ انسپکٹرز اور دیگر افسروں ا و رملازمین رہے ۔ ایک خاتون سمیت متعدد عادی درخواست باز اس چار رکنی گروہ کے ساتھ مل کر مختلف محکموں میں شکایات درج کرواتے رہے۔ذرائع کے مطابق یہ گروہ میونسپل کارپوریشن کے علاوہ محکمہ ہائی وے ، انہار، پی ایچ اے اور دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کے خلاف بھی درخواستیں دلواتا رہا۔

جبکہ مخصوص مقاصد کے حصول کے بعد متعدد درخواستیں واپس لے لی گئیں، جن کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں۔میونسپل کارپوریشن کے متاثرہ ملازمین اور عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری بلدیات اور کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ اس4رکنی گروہ اور عادی درخواست بازوں کے خلاف انٹیلیجنس بیورو اور سپیشل برانچ کے ذریعے اعلیٰ سطحی انکوائری کروا کر ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں