جھنگ :انکم سپورٹ پروگرام کی رقم سے مبینہ کٹوتیاں، احتجاج
پانچ پانچ گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے ، متاثرہ خواتین کی دہائی
جھنگ (ڈسٹرکٹ رپورٹر )بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحق خواتین کو ملنے والی امدادی رقم سے مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ سبزی منڈی کے قریب بند روڈ پر قائم سنٹر پر خواتین کو گھنٹوں انتظار کے باوجود ریٹیلرز کی جانب سے کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔متاثرہ خواتین کے مطابق انہیں پانچ پانچ گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے اور باری آنے پر 1500 سے 2000 روپے تک کی کٹوتی کر لی جاتی ہے ۔ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ رقم کاٹنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مکمل قسط جاری کی جاتی ہے مگر مقامی ریٹیلرز من مانی کرتے ہوئے رقم کا ایک بڑا حصہ کاٹ لیتے ہیں۔متاثرہ خواتین کے مطابق پہلے انہیں ٹوکن دیے جاتے ہیں اور بعد ازاں رقم دیتے وقت کٹوتی کر لی جاتی ہے ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس سے 1500 روپے جبکہ دوسری خاتون سے پورے 2000 روپے کاٹ لیے گئے ۔خواتین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ایک سنٹر تک محدود نہیں بلکہ ضلع کے مختلف علاقوں میں ریٹیلرز اسی طرح کی من مانی کر رہے ہیں۔
خواتین کو دھکے دینا اور بدسلوکی کرنا معمول بن چکا ہے جبکہ شکایت کرنے پر انہیں خاموش کرا دیا جاتا ہے ۔ بعض ریٹیلرز مبینہ طور پر یہ کہہ کر خواتین کو چپ کرا دیتے ہیں کہ اس رقم میں پروگرام کے بعض اہلکاروں اور انتظامیہ کا بھی حصہ شامل ہوتا ہے ۔متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ امدادی رقم حاصل کرنے والی خواتین شدید غربت کا شکار ہوتی ہیں اور دور دراز علاقوں سے سفر کر کے سنٹرز تک پہنچتی ہیں۔ گھنٹوں انتظار کے بعد کبھی نیٹ ورک بند ہونے اور کبھی ڈیوائس خراب ہونے کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے جس سے انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔