ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروا ئی سے طلبہ پر یشان
دیہاڑی دار بھی متاثر ، تعلیمی اخراجات پور ے کرنا مشکل ، جرمانے کیسے دیں :والدین
گجرات (نامہ نگار )پنجاب حکومت کی جانب سے ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کر انے کی مہم تیزی سے جاری ہے مگر اس کے نتیجے میں غریب طبقہ، بالخصوص دیہاڑی دار مزدور اور طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ سیفٹی ہیلمٹ، کاغذات کی عدم موجودگی، کم عمر ڈرائیونگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے اور بعض صورتوں میں مقدمات کے اندراج نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی حالات میں غریب طبقے پر اس قدر سخت کارروائی مناسب ہے ؟دیہاڑی دار طبقہ کی حالت سب کے سامنے ہے ۔ روزانہ پندرہ سو سے دو ہزار روپے کمانے والا مزدور بمشکل اپنا گھر چلاتا ہے ۔ ایسے میں اگر اسے تین ہزار، پانچ ہزار یا اس سے زائد کا جرمانہ بھرنا پڑ جائے تو اس کے گھر کا بجٹ مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے ۔ کئی مزدوروں نے شکایت کی ہے کہ وہ ایک طرف بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ اور دال روٹی پوری کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف ٹریفک چالان ان کے لیے نئے مسائل کھڑے کر رہے ہیں۔ کچھ افراد کو خلاف ورزی پر ایف آئی آر کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے بعد ضمانت کا عمل مزید مالی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے طلبہ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی میں بچوں کی تعلیم کے اخراجات پہلے ہی مشکل ہیں۔، اوپر سے جرمانے صورتحال مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں حکومتی مؤقف کے مطابق ٹریفک قوانین پر سختی حادثات کی شرح کم کرنے اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے ۔