سیالکوٹ: تعلیم بند سکول باڑے میں تبدیل

سیالکوٹ: تعلیم بند سکول باڑے میں تبدیل

ارکان اسمبلی علی زاہد حامد اور خرم ورک کے حلقے میں سکول کی عمارت کھنڈر ،دیواریں منہدم ، دروازے اور کھڑکیاں چوری ،لوگوں نے مویشی باندھ دئیے ،دیواروں پر اوپلے

سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )ممبر قومی اسمبلی علی زاہد حامد خان پسرور اور ممبر صوبائی اسمبلی پی پی 48 پسرور خرم خان ورک کے حلقہ یونین کونسل مالی پور کے گاؤں سوئیاں میں بچے معیاری تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ گاؤں میں قائم گورنمنٹ ماڈل پرائمری سکول طویل عرصے سے عدم توجہی کا شکار ہو کر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سکول کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے اور مقامی افراد اس تعلیمی ادارے کو مال مویشی باندھنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں جس سے ادارے کی حالت مزید ابتر ہو گئی۔ سکول کے دروازے ، کھڑکیاں اور بلڈنگ کا کچھ حصہ چوری کیا جا چکا ہے دیواریں گر چکی ہیں۔ سکول تعلیمی مرکز کے بجائے مویشیوں کی حویلی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔اہلِ علاقہ کے مطابق سوئیاں گاؤں کے بچے تعلیم کے حصول کیلئے دور دراز علاقوں کے سکولوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ،کئی بچے سفری دشواریوں اور اخراجات کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ کر مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہو چکے ہیں۔اہلیانِ گاؤں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات ، سی ای او ایجوکیشن سیالکوٹ ، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی ، اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ تعلیمی ادارے کو فوری طور پر بحال کیا جائے ، عمارت کی مرمت اور اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں