مہنگائی کے ستائے بچے حصول تعلیم کیساتھ مز دوری پر مجبور

مہنگائی کے ستائے بچے حصول تعلیم کیساتھ مز دوری پر مجبور

کئی بچے سکول کے بعد کتابیں اور فیس کیلئے کام کرنے لگے ، بعض تعلیم چھوڑ چکے

جامکے چٹھہ(نامہ نگار )مہنگائی کے دورمیں غربت کی چکی میں پسے بچے تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ بوڑھے والدین کا سہارا بنے ہوئے ہیں ۔یوں غربت کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے معاشرے کے کمزور طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے جہاں کم عمر بچے کھیل کود اور تعلیم کے دنوں میں محنت مزدوری پر مجبور ہیں ۔ شہر کے مختلف چوراہوں، بازاروں اور سڑک کنارے بچے بوٹ پالش کرتے ، مکئی کے سٹے اور خشک و نمکین بھنے ہوئے چنے فروخت کرتے اور بھٹہ خشت پر مزدوری،ہوٹلوں اور چائے خانوں میں ٹیبل بوائے اور موٹر سائیکل،کارمکنیک ورکشاپ پرمزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں بلکہ بوڑھے اور بیمار والدین کا سہارا بھی بنے ہوئے ہیں۔ بچوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں آمدن کا کوئی مستقل ذریعہ نہ ہونے کے باعث انہیں کم عمری میں ہی روزگار کی تلاش کرنا پڑی، کئی بچے صبح سکول جاتے ہیں اور دوپہر کے بعد محنت مزدوری کرکے کتابیں، کاپیاں اور فیس کا بندوبست کرتے ہیں تاہم کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو غربت کے باعث سکول چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...