موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہنگامی منصوبہ بندی ناگزیر ،ماہرین

موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہنگامی منصوبہ بندی ناگزیر ،ماہرین

اداروں کے درمیان مربوط رابطے ، ڈیٹا کے تبادلے کو مؤثر بنایا جائے ، ویبینار سے خطاب

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں شدید گرمی کی لہریں، غیر معمولی مون سون، اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور خشک سالی جیسے خطرات بیک وقت سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے ہنگامی منصوبہ بندی نا گزیر ہے ۔مقررین نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایس ڈی پی آئی کی محقق زینب نعیم نے کہا مون سون سے وابستہ خطرات میں کمی کے لئے عوامی آگاہی، طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی اور موثر حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ محکمہ موسمیات کے پرنسپل میٹرولوجسٹ اور ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر فرخ بشیر نے کہا اصل چیلنج موسمیاتی پیش گوئیوں کا فقدان نہیں۔

بلکہ ان پر بروقت اور موثر عمل درآمد ہے ۔ پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی چیف ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی ستائش شہریار نے بتا یا پنجاب میں تمام ترقیاتی منصوبوں کے لئے کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ متعارف کرائی جا چکی ہے ۔گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر خادم حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیلاب اب ایک موسمی حقیقت بن چکا ہے ۔ویبینار کے اختتام پر شرکا نے کہا ترقیاتی منصوبہ بندی اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ میں موسمیاتی پیش گوئیوں کو بنیادی جزو بنایا جائے۔ ، خطرے سے دوچار علاقوں کی نگرانی اور نقشہ سازی کو وسعت دی جائے ، اداروں کے درمیان مربوط رابطے اور ڈیٹا کے تبادلے کو موثر بنایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...