حاملہ بلی کا آپریشن، دو مردہ بچے پیٹ سے نکال دیے گئے
گلشن اقبال کا نوجوان بیمار بلی کو ریچمنڈ کرافورڈ وٹرنری اسپتال لایا تھا
آپریشن میں دو گھنٹے لگے، بلی کی حالت خطرے سے باہر ہے ، ڈاکٹر مینا میمنکراچی(اسٹاف رپورٹر)ایم اے جناح روڈ پر واقع ریچمنڈ کرافورڈ وٹرنری اسپتال کی ڈاکٹر مینا میمن نے کہا ہے کہ وہ سندھ میں واحد وٹرنری ڈاکٹر ہیں جو بلی اور کتوں کے سرکاری اسپتال میں مفت سرجری کرتی ہیں ، ڈیفنس اور دیگر علاقوں میں جانوروں کا انتہائی مہنگا علاج ہوتا ہے،خواتین کو ترقی کے مواقع دئیے جائیں تو وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔روزنامہ دنیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ملک میں پہلی بار بریسٹ کینسر کے مرض میں مبتلا بلی کی مفت اور کامیاب سرجری کی جس کے ٹیسٹ بلی کے مالک نے آغا خان اسپتال سے کرائے، اس کے علاوہ دو روز قبل گلشن اقبال کا رہائشی نوجوان نے اپنی بلی کو حمل کے دوران خون جاری ہونے کی شکایت کے ساتھ لایا تھا جس پر انہوں نے بلی کا ایک نجی اسپتال سے الٹرا ساؤنڈ کرایا،بعد ازاں معلو م ہوا کہ اس کے پیٹ میں دو بچے مرچکے ہیں جن کی عمر تقریباً 20دن تھی۔ مینا میمن نے بتایا کہ بلی پہلی بار حمل سے 60دن کے اندر اندر بچے دیتی ہے جس کی تعداد 6سے کم ہوتی ہے ، میں نے الٹرا ساؤنڈ کے بعد بلی کا مسلسل دو گھنٹے تک آپریشن کرکے اس کے پیٹ سے مرے ہوئے بچے نکال دیئے، ڈریسنگ کی اور اب بلی کی حالت خطرے سے باہر ہے ، کچھ عرصے اس کی دوائیں جاری رہیں گی۔ڈاکٹر مینا میمن کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں وہ بھی ہر طرح کی سرجری کرسکتی ہیں اور ہر طرح کے شعبے میں کام کرسکتی ہیں۔