نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئی سی سی نےکھلاڑیوں کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردی
  • بریکنگ :- فاسٹ بولرشاہین آفریدی آٹھویں سےپانچویں نمبرپرآگئے
  • بریکنگ :- فاسٹ بولرحسن علی کی رینکنگ میں 5 درجہ بہتری
  • بریکنگ :- حسن علی 16ویں سے 11 ویں نمبرپرآگئے
  • بریکنگ :- عابدعلی کی رینکنگ میں 28 درجےبہتری
  • بریکنگ :- عابدعلی 48 ویں سے 20 ویں نمبرپرآگئے
  • بریکنگ :- بابراعظم کی ایک درجہ تنزلی،آٹھویں نمبرپرآگئے
Coronavirus Updates

نادرا عملے کا ناروا سلوک: عوام کیلئے شناختی کارڈ کا حصول مشکل

نادرا عملے کا ناروا سلوک: عوام کیلئے شناختی کارڈ کا حصول مشکل

دنیا اخبار

تینوں میگا سینٹرز اور دیگر برانچوں میں ٹوکن کا حصول، دستاویزات کی جانچ مشکل ہو گئی، عملے کے ناروا سلوک سے شہریوں کو 10گھنٹے مراکز کے باہر انتظارکرنا پڑتا ہے،کائونٹرز کا استعمال کم کردیاگیا، ذرائع، طویل قطاریں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی وجہ سے ہیں، شہریوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، نادرا حکام

کراچی (رپورٹ: نادر خان) نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں ایس او پیز پر عمل درآمد مشکل ہو گیا، ایف آئی اے کے ذریعے نادرا افسران کی گرفتاری کے بعد سینٹرز اور میگا سینٹرز پر تعینات عملے کے ناروا سلوک کے باعث شناختی کارڈ کے حصول میں شہریوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، غیر ضروری دستاویزات پر بھی نادرا کا عملہ شناختی کارڈ کے لئے پروسیس کرنے سے قاصر ہے، میگا سینٹرز اور دیگر برانچوں میں کائونٹرز کا استعمال بھی کم کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں شہریوں کیلئے نئے شناختی کارڈ، تجدید اور دیگر دستاویزات ب فارم، ایف آر سی سمیت دیگر کے حصول کے لئے طویل انتظار کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے ۔ چیئرمین نادرا کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف تجاویز کے ذریعے شہریوں کو سہولت دینے کے دعوے کے برعکس نادرا کراچی کے تین میگا سینٹرز اور دیگر برانچوں میں شہری اذیت سے دوچار رہنے لگے ہیں، جس کی ایک وجہ پہلے مرحلے میں ٹوکن کا حصول اور دوسرے مرحلے میں دستاویزات کی جانچ کرانا ہے، جس کے لئے شہریوں کو 10سے 12گھنٹے تک نادرا مراکز کے باہر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ 2015 میں نادرا کے حوالے سے بنائی گئی پالیسی میں شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے مختلف تجاویز سامنے آئی تھیں، جس میں بڑے شہروں میں میگا سینٹرز کے قیام کے ساتھ شناختی کارڈ کی تجدید اور نئے شناختی کارڈ سے متعلق ایس او پیز کا اجرا بھی کیا گیا تھا، جس میں ہر نادرا کاؤنٹر پر موجود عملے کو 10سے 12منٹ میں پروسیس مکمل کرنا تھا اور ڈیٹا انٹری آپریٹر کو 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران کم از کم 25 سے 30 افراد کے شناختی کارڈ کے عمل کو مکمل کرنا لازم تھا، تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران ایف آئی اے کی نادرا کے خلاف مستقل کارروائیوں اور عملے کی گرفتاریوں کی وجہ سے سارا نزلہ شہریوں پر گر رہا ہے ۔ میگا سینٹرز اور دیگر مراکز میں شہریوں کی طویل قطاریں معمول بن گئی ہیں اور جو شہر ی ماضی میں شناختی کارڈ کے عمل میں ایک سے دو گھنٹے کے دوران پروسیس کرا رہے تھے وہ 10سے 12گھنٹے طویل انتظار کررہے ہیں اور غیر ضروری دستاویزات کو جواز بنا کر اس پروسیس کو دوبارہ کرانے کے لئے شہریوں کو مزید اذیت سے دوچار کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے نادرا حکام کا کہنا ہے کہ طویل قطاریں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کی وجہ سے لگتی ہیں اور جہاں کسی شہری کو مسائل درپیش آتے ہیں انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں