کھپرو:ہندو لڑکی کاقبول اسلام، تحفظ کیلئے عدالت سے رجوع
میرپور خاص کی عدالت میں درخواست دائر، والد، بھائی ودیگر رشتے داروں سے خطرہبغیر کسی دباؤ کے مرضی سے اسلام قبول کرکے پسند کی شادی کی، تحفظ دیا جائے ، اپیل
کھپرو (نمائندہ دنیا)کھپرو کے گاؤں چانسیری سے تعلق رکھنے والی ہندو لڑکی نے اسلام قبول کرنے کے بعد جان و مال کے تحفظ کے لیے میرپورخاص کی عدالت میں درخواست دائر کر دی۔ اوڈھ برادری سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ جانبا دختر روپو اوڈ جو تین بچوں کی ماں ہے ، اور تین دن پہلے تعلقہ اسپتال کھپرو میں علاج کرانے آئی تھی، نے اپنے پریمی کے ساتھ میرپور خاص کی مدینہ مسجد میں اسلام قبول کرلیا، جس کے بعد اس نے 27 سالہ جان محمد عرف جانو ماچھی سے شریعتِ محمدی کے مطابق نکاح کر لیا۔ شادی کے بعد جوڑا ایوانِ صحافت میرپورخاص پہنچا، جہاں انہوں نے صحافیوں کے سامنے بیان دیتے ہوئے تحفظ کی اپیل کی۔ نئی نویلی دلہن نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی اور خوشی سے گھر چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کے بعد جان محمد سے نکاح کیا ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے اپنے رشتہ داروں خصوصاً والد روپو، بھائی لچھمن، ملوک لال، ستار بھنور اور دیگر افراد کی جانب سے جان کا شدید خطرہ لاحق ہے ۔ جوڑے نے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ازدواجی زندگی گزار سکیں۔