حیدرآباد:مزدور یونین نے واٹرکارپوریشن کیخلاف مورچہ لگا لیا
27اپریل تک ریفرنڈم نہ کرانے ، تنخواہ کی عدم ادائیگی پراحتجاجی تحریک کی دھمکی انتظامیہ نے اپنے امیدواروں کی شکست کے ڈرسے راہ فرار اختیار کی، خالد انصاری
حیدرآباد (بیورورپورٹ)حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن مزدور یونین نے 15اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم منسوخ کرنے پر کارپوریشن انتظامیہ کے خلاف مورچہ لگا لیا، 27اپریل تک ریفرنڈم نہ کرانے اور ملازمین کی 17ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی دیدی ۔مزدور یونین کے جنرل سیکریٹری انصاف علی لاشاری نے چیئرمین خالد انصاری، صدر ساجد تقی ودیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کارپوریشن انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ 15اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم میں اپنی پسند کے امیدواروں کی شکست کے خوف سے حیدرآباد میں سیلاب اور بارشوں کا بہانہ بناکر راہ فرار اختیار کی جو جمہوری تاریخ کا ایک سیاہ باب اور سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013کی سنگین خلاف ورزی ہے ،کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر مزدوروں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے سے روکنا ان فیئر لیبر پریکٹس کے زمرے میں آتا ہے جس کی مزدور یونین شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملازمین بالخصوص کنٹریکٹ ملازمین شدید مالی مشکلات سے دو چار ہیں، ایک طرف کارپوریشن انتظامیہ وسائل کی کمی کا بہانہ بناکر 15 ہزار روپے تنخواہ لینے والے کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کررہی ہے جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر سیاسی دبا میں آکر 40ہزار روپے تنخواہ پر نئے ملازمین بھرتی کر رہی ہے ، جب کارپوریشن مالی مشکلات سے دوچار ہے تو نئی بھرتیاں کس بنیاد پر کی جارہی ہیں۔