خزانے پرمالیاتی سختی کے تباہ کن اثرات ہونگے ، تاجر وصنعتکار

خزانے پرمالیاتی سختی کے تباہ کن اثرات ہونگے ، تاجر وصنعتکار

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود شرح سود میں اضافہ کہیں اور نہیں ہوامینوفیکچررز کو مارک اپ کی بلند شرحوں کا سامنا، بلال وقار، خالد کاکیزئی ودیگر

سکھر (بیورو رپورٹ)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے نائب صدر و سندھ کے ریجنل چیئرمین بلال وقار خان، سکھر چیمبر آف کامرس کے صدر محمد خالد کاکیزئی، سینئر نائب صدر امیت کمار، نائب صدر ملک محمد اویس رئیس اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں شرح سود میں 120 پوائنٹس اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باوجود عالمی سطح پر اس قدر نمایاں اضافہ کہیں اور دیکھنے میں نہیں آیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس مالیاتی سختی کے قومی خزانے پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی 60 کھرب روپے کے موجودہ قرضے کے تناظر میں شرح سود میں محض ایک فیصد اضافے سے حکومت کو سود کی مد میں اضافی 600 ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مارک اپ کی بلند اور ناقابل برداشت شرحوں کا سامنا ہے ، جبکہ وہ پہلے ہی توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کاروباری لاگت کے دباو میں ہے ۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ بلند شرح سود اور مہنگی توانائی کا دوہرا دباؤ صنعتی ترقی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے ، جس کے باعث ملک بھر میں صنعتی یونٹس بند ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مانیٹری پالیسی میں حالیہ اضافے کو فوری واپس لیا جائے تاکہ مزید ڈی-انڈسٹریلائزیشن کو روکا جا سکے اور نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری سہولت فراہم کی جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں