ذہنی بیماری ، مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
جیل سپرنٹنڈنٹ کو نفسیاتی معائنہ، علاج اور ادویات کے انتظام کی ہدایتعدالت نے قتل کے مقدمے میں دو لاکھ روپے معاوضے کی سزا برقرار رکھی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے بھائی کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم نور احمد کی سزا برقرار رکھتے ہوئے ذہنی بیماری کے باعث سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ جسٹس عمر سیال اور جسٹس شمس الدین عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف قتل کا الزام قابلِ اعتماد عینی شہادت، طبی شواہد اور دیگر شواہد سے شک سے بالاتر ثابت کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ گواہان کا مقتول کے بھائی ہونا ان کی گواہی مسترد کرنے کی بنیاد نہیں، جبکہ بیلچے کی برآمدگی اور فارنزک رپورٹ میں اس پر انسانی خون کی موجودگی نے بھی استغاثہ کے موقف کی تائید کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کا جرم ثابت ہوچکا ہے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں۔ تاہم دورانِ اپیل عدالت کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں ملزم کے سنگین ذہنی مرض میں مبتلا ہونے اور مسلسل نفسیاتی علاج کی ضرورت کی تصدیق ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ذہنی بیماری جرم کے وقت مکمل قانونی استثنیٰ ثابت نہیں کرتی، تاہم سزا کے تعین میں یہ ایک اہم تخفیفی سبب ہے۔ عدالت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے دو لاکھ روپے معاوضے کی سزا برقرار رکھی، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ قید کے دوران مجرم کا باقاعدگی سے نفسیاتی معائنہ، علاج اور ادویات کا انتظام کیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments