ملک میں 40فیصد بالغ افراد کا کولیسٹرول بلند
غیر متوازن غذا، موٹاپا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی امراض قلب کے اہم اسباب متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش سے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں، طبی
کراچی(این این آئی)لپڈ سوسائٹی آف پاکستان کے ماہرینِ صحت نے دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے خون میں کولیسٹرول اور دیگر چکنائیوں کی بروقت جانچ، صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور تجویز کردہ ادویات کے باقاعدہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں بالغ آبادی کے ایک سروے میں تقریباً 39.3 فیصد افراد میں مجموعی کولیسٹرول، 39.7 فیصد میں نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور 48.9 فیصد میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی تھی۔کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے کنوینرپروفیسر محمد نواز لاشاری نے بروقت تشخیص، مناسب علاج اور عوام میں آگاہی کو اہم قرار دیا۔
سوسائٹی کے صدر پروفیسر عبدالرشید خان نے کہا کہ غیر صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور موٹاپا خون میں چکنائی کی خرابی کے اہم اسباب ہیں، جبکہ ذیابیطس، تھائیرائیڈ اور گردوں کی بعض بیماریاں بھی اس مسئلے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کولیسٹرول کی جانچ کی ضرورت پر زور دیا۔سوسائٹی کے چیئرمین پروفیسر فیروز میمن نے کہا کہ دل کے مریضوں کو دوبارہ دل کے دورے اور دیگر پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کم رکھنے ، بلڈ پریشر اور ذیابیطس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments