ٹرینوں کی منسوخی ، گھنٹوں تاخیر اور حادثات معمول ، مسافر پریشان

 ٹرینوں کی منسوخی ، گھنٹوں تاخیر اور حادثات معمول ، مسافر پریشان

ٹرینوں کی آمدورفت میں اوسطاً چار سے پانچ گھنٹے تاخیر، بعض اوقات مسافروں کا انتظار 15 گھنٹے تک بڑھ جاتا ہےریلوے اسٹیشن پہنچنے پر بعض مسافروں کو ٹرین کی منسوخی کا علم ہوتا ہے ، دوسری ٹرینوں میں جگہ کے تنازع پر جھگڑے

کراچی (این این آئی)پاکستان ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کی مشکلات برقرار ہیں، ٹرینوں کی منسوخی، گھنٹوں کی تاخیر اور حادثات کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر بعض مسافروں کو ٹرین کی منسوخی کا علم ہوتا ہے ، جس کے بعد انہیں دوسری ٹرینوں میں جگہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے ، تاہم پہلے سے سوار مسافروں کے ساتھ جگہ کے تنازع پر جھگڑے بھی سامنے آتے ہیں۔مسافروں کو عموماً چار سے پانچ گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جبکہ بعض اوقات انتظار کا دورانیہ 10 سے 15 گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے ۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، چیف ایگزیکٹو افسر ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام کے اچانک معائنوں کے باوجود مسافروں کی مشکلات میں نمایاں کمی نہیں آسکی۔دوسری جانب ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور ایک ٹرین کے دوسری سے ٹکرانے جیسے واقعات کے باعث ریلوے ٹریک پر آمدورفت کئی کئی گھنٹے معطل رہتی ہے ۔ اس سے پورا نظام متاثر ہوتا ہے اور ٹرینوں کی آمدورفت معمول پر لانے میں کئی روز لگ جاتے ہیں۔

مسافر اسٹیشنوں یا راستے میں ٹرینوں کے اندر پھنس جاتے ہیں، جبکہ حادثات سے پاکستان ریلوے کو اربوں روپے کے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ذرائع کے مطابق بجلی فراہم کرنے والی گاڑیوں میں خرابی اور بوسیدہ بوگیاں بھی حادثات کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔ اس حوالے سے اعلیٰ حکام کو متعدد رپورٹس بھجوائی جاچکی ہیں، تاہم انکوائریوں کے باوجود غفلت کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے پٹریوں کی بہتری کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے ، جبکہ بعض حصوں پر ٹرینوں کی رفتار بھی کم کی گئی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی تعداد میں کمی کے باعث بعض ٹرینیں منسوخ کرکے ان کے مسافروں کو قواعد کے مطابق دوسری ٹرینوں میں منتقل کیا جاتا ہے ۔ متبادل ٹرین میں سفر نہ کرنے والے مسافروں کو ٹکٹ کی رقم واپس کردی جاتی ہے ۔حکام کے مطابق ٹرین حادثات کی باقاعدہ تحقیقات کی جاتی ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...