مہنگی ادویات ، بریسٹ کینسر کا علاج بیشتر مریضوں کی پہنچ سے باہر
سال 2024کے دوران سینے کے سرطان کے 43ہزار 721نئے کیسز سامنے آئے ، 20ہزار 39اموات ہوئیں مریضوں کو کیموتھراپی، شعاعوں کے ذریعے علاج اور ضروری طبی ٹیسٹ کرانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کراچی(این این آئی) پاکستان میں مہنگی ادویات، تشخیص میں تاخیر اور علاج کے اخراجات کے باعث بریسٹ کینسر کے بیشتر مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، جبکہ علاج کے لیے درکار ادویات کی عدم دستیابی اور دفتری رکاوٹیں بھی مریضوں کی صحت یابی میں حائل ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ادویات کی قیمتیں کم کرنے ، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ان خیالات کا اظہار ماہرینِ امراضِ سرطان نے بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے کے سلسلے میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ بریسٹ کون 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں محدود طبی سہولتوں اور مالی وسائل رکھنے والے ممالک میں بریسٹ کینسر کے علاج کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جے پی ایم سی میں سائبر نائف اور ٹوموتھراپی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی سرجری کے لیے قابل اور تربیت یافتہ سرجن موجود ہیں، تاہم مہنگی ادویات ایک سنگین مسئلہ ہیں۔
مریضوں کو کیموتھراپی، شعاعوں کے ذریعے علاج اور ضروری طبی ٹیسٹ کرانے میں بھی مشکلات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کینسر کی بعض ادویات بھارت اور دیگر ممالک میں کم قیمت پر دستیاب ہیں، لیکن پاکستان میں ان کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ وہ ادویہ ساز کمپنیوں سے رابطہ کرکے درخواست کرچکے ہیں کہ پاکستانی مریضوں کو یہ ادویات مناسب قیمت پر فراہم کی جائیں۔ ان کے مطابق سرکاری قواعد اور دفتری رکاوٹیں بھی معیاری ادویات کی سستے داموں دستیابی میں مشکلات پیدا کرتی ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ پاکستانی ادویہ ساز کمپنیاں مختلف ممالک کو ادویات برآمد کررہی ہیں، اس لیے مقامی سطح پر معیاری ادویات کم قیمت پر تیار کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدافعتی نظام کو ہدف بنانے والے جدید علاج کے بڑھتے اخراجات نے بھی مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران بریسٹ کینسر کے اندازاً 43 ہزار 721 نئے کیسز سامنے آئے اور اس بیماری سے 20 ہزار 39 اموات ہوئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments