تھرپارکر:5روز بعد بھی ایمبولینس آتشزدگی کی وجہ کاتعین نہ ہوا
سلنڈر کے دھماکے سے 10افراد لقمہ اجل بنے ، تحقیقات سست روی کاشکارپوسٹمارٹم، فارنزک اجازت نہ ملنے پرسی ٹی ڈی کی رپورٹ پرمزید انکوائری بند
تھرپارکر(نامہ نگار)ننگرپارکر کے بنیادی صحت مرکز ایمبولینس سانحے کو 5 روز گزر گئے ، جس میں حاملہ خاتون، نوزائیدہ بچے اور عملے سمیت تقریباً 10 افراد جاں بحق ہوئے ۔ تاہم آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی اور تحقیقات سست روی کا شکار ہیں۔ ایس ایس پی تھرپارکر کے مطابق، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ابتدائی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ آکسیجن سلنڈر کی لیکیج کے دوران وہاں کسی شخص کی جانب سے سگریٹ کا استعمال کیا گیا، جو آگ بھڑکنے کا ممکنہ سبب بنا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایمبولینس میں موجود ڈرائیور اور چوکیدار بھی اس واقعے میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جن سے تفتیش کی جانی تھی۔
اہم ترین عینی شاہدین کی ہلاکت اور ورثا کی جانب سے لاشوں کے پوسٹ مارٹم اور فارنزک نمونے لینے کی اجازت نہ دینے کے باعث پولیس نے سی ٹی ڈی کی رپورٹ پر مزید انکوائری بند کر دی ہے ، جس سے تحقیقات پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب، محکمہ صحت سندھ کی انکوائری کمیٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کی سربراہی میں تاحال تحقیقات کر رہی ہے ۔ ڈی جی صحت کا کہنا ہے کہ آکسیجن سے اس قدر تیزی سے آگ لگنے کا ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں سنا گیا، اس لیے سلنڈر پھٹنے کی اصل سائنسی وجہ اور واقعے کی شدت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے ۔ اس سانحے کے بعد پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو انتظامیہ نے غفلت برتنے پر تھرپارکر کے تین سینئر افسران کو معطل کر دیا۔ شہریوں نے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments