گیس بحران بےقابو ، تعطل 16 گھنٹے تک پہنچ گیا، ہوٹلوں اور تندوروں پر عوام کا رش
شہریوں کو دفاتر اور بچوں کو اسکول بغیر ناشتے کے جانا پڑ رہا ہے ،دانستہ مصنوعی بحران پیدا کیا جارہا ہے ، غریب اور متوسط طبقے پر ایل پی جی کا اضافی بوجھ لاد دیا گیا،صارفین کا ردعمل
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، شہر کے کئی علاقوں میں دن بھر گیس غائب رہتی ہے ، گیس کا تعطل 12سے 16 گھنٹے تک ہوگیا ہے جبکہ شہر بھر میں رات ساڑھے نو سے صبح چھ بجے تک گیس کی سرکاری لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے ، گیس کی بندش سے شہریوں کو دفاتر اور بچوں کو اسکول بغیر ناشتے کے جانا پڑ رہا ہے ،ہوٹلوں اور تندوروں پر عوام کا رش بڑھ گیا۔نارتھ ناظم آباد بلاک بی، واٹر پمپ، لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا کے مختلف بلاکوں، گلبہار، ناظم آباد، برنس روڈ، اورنگی ٹائون،گلشن اقبال کے مختلف بلاکس، گلستان جوہر ، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی،ناتھا خان گوٹھ، ملیر سمیت شہر بھر میں گیس کی قلت نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ذرائع نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ شہر بھر میں گیس ڈسٹری بیوشن کا خستہ حال انفرا اسٹرکچر بھی بحران کی ایک بڑی وجہ ہے اور کم پریشر بنیادی طور پر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں لیکیج کی وجہ سے ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مافیا کو نوازنے کے لیے دانستہ گیس کا مصنوعی بحران پیدا کیا جارہا ہے ،مہنگائی کے اس دور میں غریب اور متوسط طبقے پر ایل پی جی کا اضافی بوجھ لاد دیا گیا۔ شہریوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کے شہر کے منتخب بلدیاتی، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندے اس اہم ترین مسئلہ پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments