میٹروبسوں،سٹیشنز پر لگائی گئی متعدد کارڈ مشینیں غیر فعال

میٹروبسوں،سٹیشنز پر لگائی  گئی متعدد کارڈ مشینیں غیر فعال

نئی پالیسی کے تحت کارڈ سے سفر کرنے والے مسافر کم اور کیش دینے والے زیادہ کرایہ ادا کریں گے ،سسٹم مکمل فعال نہیں، بوجھ مسافروں پر ڈالا جائے گاپنجاب حکومت کی طرف سے ماس ٹرانزٹ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹی کیش کارڈ سہولت متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیاگیا:ذرائع

لاہور (شیخ زین العابدین)پنجاب میں ماس ٹرانزٹ نظام کو جدید بنانے کے لیے ٹی کیش کارڈ پالیسی نافذ کرنے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے ۔مگر زمینی صورتحال یہ ہے کہ بسوں اور سٹیشنز پر لگائی گئی کارڈ سویپ مشینیں بڑی حد تک غیر فعال ہیں۔نئی پالیسی کے تحت کارڈ سے سفر کرنے والے مسافر کم اور کیش دینے والے زیادہ کرایہ ادا کریں گے ۔سسٹم مکمل فعال نہیں مگر کا بوجھ مسافروں پر ڈالا جائے گا،مصدقہ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ماس ٹرانزٹ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹی کیش کارڈ سہولت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس پالیسی کا مقصد میٹرو بس اور دیگر ماس ٹرانزٹ سروسز میں ڈیجیٹل کرایہ نظام کو فروغ دینا اور مسافروں کو کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا ہے ۔نئی پالیسی کے مطابق چھبیس مارچ دو ہزار چھبیس سے لاہور سمیت پنجاب بھر کی میٹرو بس سروسز میں ٹی کیش کارڈ کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں سے پچیس روپے کرایہ وصول کیا جائے گا، جبکہ کیش کی صورت میں کرایہ ادا کرنے والوں سے چالیس روپے لیے جائیں گے ۔

اس طرح کارڈ استعمال کرنے والے مسافروں کو فی سفر پندرہ روپے تک رعایت ملے گی۔تاہم عملی صورتحال اس پالیسی سے مختلف نظر آتی ہے ۔ لاہور میں چلنے والی سپیڈو بس سروس کو بھی ٹی کیش کارڈ نظام پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے ، مگر متعدد بسوں میں نصب کارڈ مشینری ابھی تک فعال نہیں ہو سکی۔ اسی وجہ سے کئی مقامات پر مسافروں سے تاحال کیش کی صورت میں کرایہ وصول کیا جا رہا ہے ۔دوسری جانب میٹرو بس کے مختلف سٹیشنز پر بھی کارڈ سواپ سسٹم مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ اٹاری سروبہ، سیکرٹریٹ اور راوی روڈ سٹیشن سمیت کئی مقامات پر نصب مشینیں کارڈ کو پڑھنے یا سویپ کرنے کے قابل نہیں ہیں، جس کے باعث مسافروں کو کرایہ ادا کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کارڈ مشینیں غیر فعال رہیں تو مسافروں کو کیش کے ذریعے زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔ یوں ڈیجیٹل کرایہ نظام کے اعلان کے باوجود بنیادی انفراسٹرکچر مکمل فعال نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ انتظامیہ کی تیاری بھی زیر بحث آ گئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں