پبلک ٹرانسپورٹ روٹس فعال کرنیکا منصوبہ فائلوں تک محدود

پبلک ٹرانسپورٹ روٹس فعال کرنیکا منصوبہ فائلوں تک محدود

نجی ٹرانسپورٹرز کے ذریعے بسیں چلانے کی حکمت عملی بھی مؤثر انداز میں نافذ نہ ہو سکی

لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں غیر فعال پبلک ٹرانسپورٹ روٹس کی بحالی کا اعلان تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا اور شہری بدستور سفری مشکلات کا شکار ہیں۔باون روٹس کو فعال بنانے اور ایک سو چون رُوٹ پرمٹس جاری کرنے کا منصوبہ فائلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔نجی ٹرانسپورٹرز کے ذریعے بسیں چلانے کی حکمت عملی بھی مؤثر انداز میں نافذ نہ ہو سکی۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل بدستور حل طلب ہیں جہاں غیر فعال روٹس کی بحالی کے دعوے عملی پیش رفت سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی جانب سے باون روٹس کو فعال بنانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تو تیار کر لی گئی، مگر ان روٹس پر بسیں تاحال نہ چل سکیں۔چھ سال کے وقفے کے بعد شہر میں ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت ایک سو چون روٹ پرمٹس جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم یہ منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہو گیا۔

شہری علاقوں میں پہلے ہی اڑتالیس روٹس غیر فعال ہیں جبکہ نئے روٹس پر بھی ورکنگ مکمل نہ ہوسکی، جس سے عوام کی مشکلات میں کمی نہ آ سکی۔ شہریوں کو ریلیف دینے کے دعوے تو کیے گئے ، مگر عملی سطح پر ٹرانسپورٹ کی کمی برقرار ہے اور روزمرہ سفر کرنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔لاہور جیسے بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور جب تک اعلانات کو عملی شکل نہیں دی جاتی، شہریوں کیلئے آسان سفر محض ایک وعدہ ہی رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں