سکولوں سے طلبہ کا انخلا روکنے کیلئے مہم کا فیصلہ
ڈراپ آؤٹ کی شرح روکنے کیلئے اساتذہ کی خصوصی تربیت مکمل،والدین سے قریبی تعلق کی ہدایات جاری ، بوگس انرولمنٹ کا خاتمہ ، سکول سربراہوں کو حقیقی اہداف تفویضسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کیلئے 40ارب روپے کا خصوصی پیکیج ، اضافی کلاس رومز، باؤنڈری والز، واش رومز ، فرنیچر سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جارہیں،صفدر واہگہ
ملتان(شاہدلودھی )ملتان کے سکولوں میں ڈراپ آوٹ کو روکنے کے لئے مہم چلانے کافیصلہ، 4سوکلاس رومزکے لئے فنڈز منظور،سیلاب متاثر تعلیمی اداروں کی کیٹیگریاں بنادی گئیں تفصیل کے مطابق سی ای او ایجوکیشن ڈاکٹر صفدر واہگہ نے روزنامہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سکولوں میں ڈراپ آوٹ کی شرح کو روکنے کے لئے خصوصی مہم چلانے کافیصلہ کیاگیا ہے اور اساتذہ کی ٹریننگ بھی مکمل کرلی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ضلع ملتان میں اس وقت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے تحت 1095 سرکاری سکولز کامیابی سے چلائے جا رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ 47 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نجی شعبے میں تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے ، جن میں ایک وہ سکول شامل ہیں جو نجی طور پر منظم ہیں مگر ان کی مالی معاونت حکومت کرتی ہے ، جیسے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور پیما کے سکولز، جبکہ دوسری کیٹیگری مکمل نجی سکولز کی ہے جہاں والدین خود فیس ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر صفدر واہگہ کے مطابق ضلع ملتان میں مکمل نجی سکولز کی تعداد تقریباً 660 ہے ، جن میں لگ بھگ 3 لاکھ 95 ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
پی ای ایف سے منسلک سکولز کی تعداد تقریباً 800 ہے ، تاہم چونکہ ان کا مالی بوجھ حکومت برداشت کرتی ہے اس لئے انہیں مکمل طور پر نجی سکولز شمار نہیں کیا جاتا۔ اگر پی ای ایف کے سکولز کو شامل کیا جائے تو نجی طور پر منظم مگر حکومتی معاونت سے چلنے والے سکولز کی مجموعی تعداد تقریباً 1500 بنتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بچوں کے داخلے (Enrollment) پر خصوصی توجہ دی ہے ۔ سابقہ بوگس انرولمنٹ کے نظام کو ختم کر کے حقیقی اہداف مقرر کئے گئے ۔
ملتان کو تقریباً 29 ہزار نئے طلبہ کے داخلے کا ہدف دیا گیا تھا، جو الحمدللہ مکمل کر لیا گیا ہے ۔ اب آئندہ مرحلے میں طلبہ کے سکول چھوڑنے (Dropout) کی روک تھام کے لئے خصوصی مہم شروع کی جا رہی ہے ، جس کے تحت اساتذہ کو تربیت دی گئی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ مضبوط رابطہ رکھیں، پیرنٹ ٹیچر میٹنگز منعقد کریں، بروقت ٹیسٹ اور نتائج فراہم کریں اور طلبہ کے مسائل پر توجہ دیں۔