سوشل میڈیا سے متاثر نو عمر لڑکوں کے پرتشدد گینگز سرگرم
سوشل میڈیا سے متاثر نو عمر لڑکوں کے پرتشدد گینگز سرگرممصروف چوکوں ،چوراہوں پر مسلح ہوکرایک دوسرے پر حملوں کا رجحان بڑھ گیا
مظفرگڑھ(نامہ نگار) شہر میں نو عمر لڑکوں کی جانب سے سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر گینگز بنانے اور ایک دوسرے پر حملوں کا خطرناک رجحان سامنے آ گیا ہے ۔ چند دن کے دوران نوجوان لڑکوں پر مشتمل ان گینگز نے مسلح ہو کر شہر کے مختلف مصروف چوکوں اور چوراہوں پر ایک دوسرے پر سنگین حملے کیے ، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ذرائع کے مطابق ان گینگز سے تعلق رکھنے والے بعض نوجوان آئس جیسے منشیات کے استعمال کے بھی عادی ہو چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مختلف گینگز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے اور گالم گلوچ کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ بعض نوجوان پولیس اہلکاروں کے ساتھ اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر لگا کر مخالفین کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان گینگز میں شامل کچھ نوجوان معروف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور انہی اداروں کو بھرتی کا ذریعہ بھی بنایا جا رہا ہے ۔
چند روز میں رشید حلوائی چوک، پریس کلب چوک اور سہیل پٹرول پمپ کے قریب سرعام تشدد کے واقعات پیش آئے ، جہاں نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعض واقعات میں نوجوانوں کو زبردستی موٹر سائیکلوں پر بٹھا کر لے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔شہریوں احمد، بشیر احمد، سعید احمد اور شوکت عباس سمیت دیگر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان گینگز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو شہر میں کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے ۔ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آنے کے بعد ڈی پی او مظفرگڑھ سید غضنفر علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ تھانوں کو گینگز کی نشاندہی اور قانونی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان گینگز میں شامل نوجوانوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے ۔