سنانواں میں مردہ مرغیوں سے بھرا ٹرک پکڑا گیا
کوٹ ادو میں کارروائی کے بعد متضاد بیانات، معاملہ معمہ بن گیا ،تحقیقات جاری
کوٹ ادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر) سنانواں کے علاقہ میں مردہ مرغیوں سے بھرے ٹرک کی برآمدگی کے بعد معاملہ متضاد دعوؤں کی وجہ سے معمہ بن گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پولیس کی اطلاع پر پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیو سٹاک نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹرک کو تحویل میں لے لیا جس میں تقریباً 1500 کلو بیگز میں بند مردہ مرغیاں اور پولٹری ویسٹیج موجود تھا۔فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق برآمد ہونے والی مردہ مرغیاں انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور قانون کے تحت انہیں پولٹری شیڈ سے باہر لانا یا کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے ۔ اسی بنیاد پر فوڈ اتھارٹی کی مدعیت میں تھانہ سنانواں میں مقدمہ نمبر 238/26 درج کر لیا گیا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی اشیاء ملتان منتقل کیے جانے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔دوسری جانب ویسٹیج کے کاروبار سے وابستہ محمد فرحان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گندم کٹائی کے سیزن میں پولٹری شیڈز میں گردوغبار اور ہوا کی کمی کے باعث مرغیوں کی اموات ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق مردہ مرغیاں اور ویسٹیج مخصوص ٹرک کے ذریعے تلف کرنے یا فیڈ فیکٹری منتقل کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا اور یہ کسی بھی صورت انسانی استعمال کے لیے نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق مختلف بیانات کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے اور اصل حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے ۔ اس سے قبل بھی محمود کوٹ کے علاقہ میں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔