مہنگائی سے جامعات میں داخلوں کی شرح کم،تشویش بڑھ گئی

مہنگائی  سے جامعات میں داخلوں کی شرح کم،تشویش بڑھ گئی

متوسط اور سفید پوش طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار،اخراجات میں نمایا ں اضافہ،آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوسکا،خصوصی داخلہ مہم، فیس سہولتیں اور نئے پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ

ملتان (خصوصی رپورٹر)ملک میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث جامعات میں داخلوں کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس پر تعلیمی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کیلئے سنگین چیلنج بن سکتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق کئی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے خصوصی داخلہ مہم شروع کرنے ، فیسوں میں سہولتیں دینے اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نئے پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق متوسط اور سفید پوش طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے ، جس کے باعث والدین کیلئے بچوں کو یونیورسٹیوں میں داخل کروانا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔گزشتہ چند برسوں کے دوران فیسوں، ٹرانسپورٹ، ہاسٹل، کتابوں اور دیگر تعلیمی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ آمدن میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب نوجوانوں کا رجحان روایتی ڈگری پروگراموں کے بجائے مختصر فنی کورسز، فری لانسنگ اور آن لائن مہارتوں کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق متعدد جامعات نے اسکالرشپس، فیس کی اقساط، ٹرانسپورٹ سہولت اور نئے تعلیمی پروگرام متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے جبکہ سوشل میڈیا اور کالج وزٹس کے ذریعے خصوصی داخلہ مہم بھی چلائی جائے گی۔ ماہرین تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ معاشی حالات بہتر نہ ہوئے تو ہائر ایجوکیشن کا شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں