سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کے مفصل نکات جاری کر دیئے
کراچی: (دنیا نیوز) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کے مفصل نکات جاری کر دیئے گئے۔
سٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ جنگ سےمعیشت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے، مارچ 2026ء میں مہنگائی کی رفتار بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی، مہنگائی بڑھنے سے کاروباری اعتماد میں بگاڑ ریکارڈ کیا گیا۔
مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران جی ڈی پی میں 3.8 فیصد نمو رہی، مالی سال 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی حقیقی نمو 3.9 فیصد رہی، قرضوں کی واپسی کے باوجود سٹیٹ بینک ذخائر اپریل تک 15.8 ارب ڈالر رہے۔
رپورٹ کے مطابق اشیاء سازی کی کارکردگی بہتر ہوکر جولائی تا فروری 5.9 فیصد کی رفتار سے آگے بڑھی، مشرق وسطیٰ کشیدگی کے منفی اثرات چوتھی سہ ماہی میں صنعت و خدمات کے شعبوں پر مرتب ہوں گے۔
سٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر معمولی سرپلس رہا، ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کو ترسیلات زر سے بڑی تقویت حاصل ہوئی، مالی سال 2026ء میں کرنٹ اکاؤنٹ سابقہ تخمینوں کےمقابلے میں نچلی سطح پر رہ سکتا ہے۔
مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک کے ذخائر جون 2026ء تک 18 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا امکان ہے، سٹیٹ بینک ذخائر یورو بانڈ اور بیرونی فنائسنگ کی وجہ سے مستحکم رہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں مقرر کردہ ہدف سے کم رہیں، جولائی تا مارچ کے دوران ٹیکس وصولیاں 611 ارب روپے کی بڑی کمی کا شکار رہی۔
سٹیٹ بینک کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ صارفین کو کمزور طبقوں کی طرف دھکیل گیا، سال بھر کے بنیادی سرپلس اہداف کے حصول کیلئے اخراجات میں کٹوتی کی گئی۔