فلسطینی بچی ہند رجب کی زندگی کے آخری لمحات پر بنی فلم آسکر کے لیے نامزد

ریاض: (ویب ڈیسک) فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کو بہترین بین الاقوامی فلم کی کیٹگری میں آسکر کے لیے نامزد کر دیا گیا۔

عرب نیوز کے مطابق یہ فلم غزہ میں اسرائیلی فائرنگ کے دوران پھنس جانے والی فلسطینی بچی ہند رجب کے آخری لمحات سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے، اس فلم کے ہدایتکار تونیسی فلم ساز کاوتر بن ہانیا ہیں، اور یہ سعودی عرب کے ریڈ سی فنڈ کے تعاون سے بنائی گئی۔

اس فلم کی کہانی ہند رجب حمادة کے گرد گھومتی ہے جو گزشتہ سال غزہ سٹی میں اسرائیلی فوج سے فرار کی کوشش کر رہی تھیں، وہ اپنے چھ رشتہ داروں کے ہمراہ گاڑی میں سوار تھیں کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی۔

اس اسرائیلی حملے میں صرف وہی زندہ بچ سکی تھیں تاہم انہیں بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، مدد کے لیے ریڈ کریسنٹ ریسکیو سروس کے ساتھ ان کی ریکارڈ شدہ آخری کالز نے عالمی برداری کو اسرائیل کے خلاف اشتعال دلایا۔

اس فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز میں کئی مشہور نام شامل ہیں جن میں اداکار جواکین فینکس اور بریڈ پٹ، اور آسکر جیتنے والے ہدایتکار جوناتھن گلیزر (فلم دی زون آف انٹرسٹ) اور میکسیکو کے الفونسو کورون (فلم روما) شامل ہیں۔

آسکر نامزدگی کے اعلان کے بعد ریڈ سی فلم فاؤنڈیشن نے انسٹاگرام پر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ کاوتر بن ہانیا کی فلم دی وائس آف ہند رجب 2026 کے آسکرز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ نامزدگی فلم کے تخلیقی وژن کی مضبوطی اور ٹیم کی محنت کی عکاسی کرتی ہے جس نے اسے حقیقت میں بدل دیا، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اس میں تعاون کیا اور اسے سال کی سب سے نمایاں بین الاقوامی فلموں میں سراہتے ہوئے دیکھا۔

یہ فلم ستمبر 2025 میں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی، چند دن بعد دی وائس آف ہند رجب کو سلور لائن گرینڈ جیوری پرائز دیا گیا جو فیسٹیول کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں