حسد انسان کو دل کے امراض اور دیگر بیماریوں کی طرف لے جا سکتی ہے: افتخار ٹھاکر

لاہور: (ویب ڈیسک) معروف کامیڈین، میزبان اور اداکار افتخار ٹھاکر نے ذیابیطس (شوگر) کے بڑھتے ہوئے مرض سے متعلق ایک منفرد رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسد اور منفی سوچ بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہو سکتی ہیں۔

افتخار ٹھاکر نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بے ایمانی اور بری نیت رکھنے والا شخص حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈاکٹرز شوگر کی بیماری کو ذہنی دباؤ، پریشانی اور ڈپریشن سے جوڑتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں حسد بھی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں، لیکن میرے خیال میں ہمارے ملک میں شوگر کے تقریباً 40 فیصد مریض حسد اور دوسروں کی کامیابی سے جلنے کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوئے ہوں گے۔

افتخار ٹھاکر کے مطابق جب کوئی شخص اپنے بھائی یا کسی دوسرے فرد کی کامیابی سے حسد کرتا ہے، دوسروں کی ترقی پر منفی سوچ رکھتا ہے یا اللّٰہ کی تقسیم پر شکوہ کرتا ہے تو یہ رویے اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حسد انسان کو دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دماغی مسائل کی طرف لے جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے، اس لیے دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہی بہتر طرزِ زندگی ہے۔

اداکار نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اس لیے انسان کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں اور آخرت کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ افتخار ٹھاکر کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جبکہ طبی ماہرین ذیابیطس کو جینیاتی عوامل، طرزِ زندگی، خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی اور دیگر طبی وجوہات سے جوڑتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں