سیلینا گومز اور والدہ لاکھوں ڈالرز فراڈ کے مقدمہ میں پھنس گئیں
نیو یارک: (ویب ڈیسک) ذہنی صحت سے متعلق سٹارٹ اپ ونڈر مائنڈ کے سرمایہ کاروں نے امریکی پاپ سٹار سیلینا گومز، ان کی والدہ اور سابق کاروباری شراکت دار کے خلاف تقریباً 12 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق دھوکا دہی کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی پاپ سٹار سیلینا گومز، ان کی والدہ مینڈی ٹیفی اور سابق کاروباری شراکت دار ڈینیئلا پیئرسن کے خلاف ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے سٹارٹ اپ ونڈر مائنڈ کے متعدد سرمایہ کاروں نے مقدمہ دائر کردیا ہے، سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں کمپنی کے کاروبار اور سیلینا گومز کی اس میں شمولیت کے بارے میں گمراہ کیا گیا۔
ڈیلاویئر کی عدالت میں جمعرات کو دائر کی گئی درخواست کے مطابق دو گروپس سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے کمپنی میں مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ ڈالر لگائے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ تینوں مدعا علیہان نے کمپنی کے بارے میں غلط نمائندگی کی اور ایسی شراکت داریوں، اشتہاری معاہدوں اور منصوبوں کا تاثر دیا جو حقیقت میں موجود نہیں تھے۔
2021 میں قائم ہونے والی ونڈر مائنڈ کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی روزمرہ زندگی میں ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے آسان اور قابلِ عمل طریقے فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، سیلینا گومز کمپنی کی شریک بانی جبکہ ان کی والدہ مینڈی ٹیفی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، سابق کاروباری شراکت دار ڈینیئلا پیئرسن نے 2023 میں مینڈی ٹیفی سے مبینہ اختلافات کے بعد کمپنی چھوڑ دی تھی۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ونڈر مائنڈ کی جے پی مورگن سمیت بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داریاں، اشتہاری معاہدے، معروف شخصیات کے ساتھ کور سٹوریز اور ایک جدید ایپ موجود ہے، تاہم ان کے بقول نہ یہ شراکت داریاں ہوئیں، نہ منصوبے عملی شکل اختیار کرسکے اور نہ ہی ایپ تیار کی گئی۔
سرمایہ کاروں نے اپنی ابتدائی سرمایہ کاری کی واپسی، ہرجانے اور قانونی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments