پاکستان سمیت اسلامی ممالک کا غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش
اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان سمیت مختلف اسلامی ممالک نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے۔
پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ شدید، سخت اور غیر مستحکم موسمی حالات نے غزہ میں صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ انسانی امداد تک ناکافی رسائی، جان بچانے والی بنیادی اشیاء کی شدید قلت سے صورتحال بدتر ہے، بنیادی خدمات کی بحالی اور عارضی رہائش کیلئے ضروری سامان کی سست رفتار آمد نے حالات کو پیچیدہ بنا دیا۔
بے گھر خاندان شدید سرد موسم میں کئی خطرات سے دوچار ہیں، بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی مسائل کے شکار افراد کو زیادہ خطرات ہیں۔
وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی امدادی اداروں کی انتھک کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ امدادی ادارے نہایت مشکل اور پیچیدہ حالات میں امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں امدادی اداروں کو بلا رکاوٹ رسائی دے، غزہ میں انسانی امداد کے ردِعمل میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
وزارائے خارجہ نے کہا کہ امدادی تنظیموں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے، وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل قرارداد اور ٹرمپ کے امن منصوبے پر کامیاب عملدرآمد میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا اور ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور ان میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ امداد کی ترسیل اور تقسیم پر پابندیاں فوری ختم کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی عمل میں لائی جائے، صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولا جائے۔